مشعل راہ جلد سوم — Page 72
72 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم رہے تھے۔لیکن انہوں نے بڑی متانت سے کہا کہ میں نے بالکل ٹھیک کیا ہے۔مجھے ہاتھ لگا تھا۔میں نے یہی کہنا تھا۔آواز تو مجھے پوری نہیں پہنچ رہی تھی۔ہلکی آواز میں گفتگو ہو رہی تھی۔لیکن چہرہ کے آثار اور متانت سے جواب مجھے بہت پسند آیا اس لئے ان کو میں اپنی طرف سے انعام دینا چاہتا ہوں۔یہ مطلب نہیں کہ آئندہ کے لئے آپ یہ سمجھ لیں کہ سچ بولنے کا انعام ہوتا ہے۔سچ بولنے کا انعام تو اللہ دیتا ہے۔صرف اس بات کو نمایاں کرنے کے لئے میں انعام دے رہا ہوں کہ ہمارے اصل مقابلے روحانی اور اخلاقی میدان کے مقابلے ہیں اور کھیلوں میں بھی ہمیشہ اس چیز کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔“ پھر تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- بیت بشارت چین اللہ تعالیٰ کا بے انتہا احسان ہے کہ اس نے ( بیت ) سپین کے افتتاح کو ہر لحاظ سے انتہائی با برکت فرمایا اور مختلف رنگ میں اپنے افضال کی بارش نازل فرمائی۔اور اس سارے سفر میں ہم نے اس کی رحمتوں کے اور نصرتوں کے نشان دیکھے اور ہماری روحیں اس کی نصرت کے قدم چومتی رہیں۔آپ خدام، خدام احمدیت بے قرار ہوں گے کہ اس سلسلہ میں کچھ بیان کروں۔کیونکہ محض یہ کہنا تو کافی نہیں کہ فضلوں کی بارش نازل ہوئی۔کیسے ہوئی۔کچھ دل کو اطمینان بھی تو ہو کہ واقعہ بارش ہی تھی۔کوئی مبالغہ آمیزی نہیں تھی۔میرا فرض ہے کہ میں آپ کو بتاؤں۔آپ کے ذہن کو بھی تسلی دوں اور آپ کے دل کو بھی تسلی دوں تا کہ جب آپ واپس جا کر ان یادوں میں کھو کر اپنے رب کی حمد کریں تو دل کی گہرائیوں سے آپ کی حمد اٹھے۔ایک عارف کے دل کی طرح آپ کا دل حمد میں محو ہو جائے۔محض ایک نظریاتی حمد نہ ہو بلکہ قلبی واردات سے تعلق رکھنے والی حمد ہو۔لیکن اس سے پہلے کہ میں آگے کچھ بڑھوں میرا یہ مشورہ ہے کہ جو دوست کھڑے ہیں جہاں تک ممکن ہو وہ بیٹھ جائیں۔سوائے اس کے کہ کوئی جگہ ایسی ہے جہاں بیٹھنا ناممکن ہو وہ بیٹھنے کی کوشش کریں۔قناتیں اسی لئے ہٹائی گئی تھیں تا کہ جو بڑی دیر سے آکر اندر بیٹھے ہوئے ہیں ان کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے پہنچیں۔بہت گرمی ہے اس لئے کنارے کے دوست اول تو ویسے ہی نسبتا ٹھنڈی جگہ کھڑے ہیں اوپر سے گھیر کر وہ اندر والوں کو گرمی پہنچا ئیں، یہ ٹھیک نہیں۔دوست تشریف رکھیں اور اطمینان سے تقریر سنیں۔