مشعل راہ جلد سوم — Page 71
مشعل راه جلد سوم 71 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تقسیم انعامات کے بعد اور تقریر سے قبل حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ ایک انعام میں اپنی طرف سے دینا چاہتا ہوں۔حیدر آباد ڈویژن کی کبڈی کی ٹیم کے ایک نوجوان کھلاڑی تھے جن سے ریفری نے پوچھا تھا کہ تمہیں ہاتھ لگا ہے یا نہیں اور انہوں نے بتایا تھا کہ ہاں مجھے ہاتھ لگا ہے۔وہ کہاں ہیں؟ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں تو سطیح پر آجائیں۔ان کا نیلا جانگیہ تھا۔قائد ضلع حیدر آبادان کو بلائیں۔جب تک وہ سٹیج پر آتے ہیں میں وجہ بتا دیتا ہوں کہ میں ان کو کیوں بلا رہا ہوں۔کبڈی کے میچ کا ویسے تو بڑا لطف آرہا تھا لیکن وہاں اخلاقی امتحان کا ایک ایسا میچ ہوا کہ مجھے ایسا مزہ آیا کہ میں کبڈی کا دوسرا سارا مزہ بھول گیا۔ہمارے ربوہ کا ایک کھلاڑی آیا حیدر آباد ڈویژن کی طرف اور اس وقت برابر کے پوائنٹس (Points) چل رہے تھے۔ایک دو پوائنٹس سے بھی پانسہ پلٹ سکتا تھا۔اس نے ہاتھ لگانے کی کوشش کی۔ایک لڑکے کو بہت خفیف سا ہاتھ لگا۔میں نے محسوس کیا کہ ہاتھ لگ گیا ہے لیکن شک تھا۔اتنے میں ایک اور آدمی نے اسے پکڑ لیا۔اس نے کہا میرا ہاتھ لگ گیا تھا دوسرے کو۔ساری ٹیم کے چہرہ سے ظاہر ہورہاتھا کہ بالکل گپ مار رہا ہے کوئی ہاتھ نہیں لگا۔ریفری نے بڑے متر ڈ درنگ میں فرضاً اس نوجوان سے پوچھا کہ تمہیں ہاتھ لگا تھا؟ اس نے بڑی جرات سے کہا۔ہاں لگا تھا۔اس سے مجھے بہت خوشی ہوئی کیونکہ ہمارے اصل مقابلے اخلاقی میدان کے مقابلے ہیں۔کھیل کے میدان میں انہی کی تربیت دی جاتی ہے۔اگر وہ کہتا نہیں لگا تھا تو کوئی آدمی یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ لگا ہے۔اس کے بعد ایک اور نظارہ دیکھا۔وہیں ایک نوجوان اور تھے جن سے جب تعارف ہوا تو مجھے خیال ہوا کہ شاید یہ احمدی نہیں ہیں۔چنانچہ میں نے ان سے پوچھا۔یہ احمدی ہیں؟ تو پتہ لگا کہ ابھی ایک مہینہ ہوا ہے انہوں نے بیعت کی ہے۔غرض کبڈی کے اس واقعہ کے بعد وہ ان سے لڑنے لگے کہ تم نے سچ بولا کیوں ہے اور ان پر ناراض ہو