مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 692 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 692

مشعل راه جلد سوم 692 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی اس لئے بچوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر بے وجہ جھڑ کنا نہیں چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو ان سے عزت کا سلوک کیا کرو۔دوسری روایت ترمذی ابواب البر والصلہ سے لی گئی ہے حضرت ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد اور پھر اپنے دادا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی بہترین اعلی تحفہ نہیں جو باپ اپنی اولاد کو دے سکتا ہے۔(ترمذی۔ابواب البر والصلہ۔باب فی ادب الولد ) الادب المفرد للبخاری سے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ ابرار کو اللہ تعالیٰ نے ابرار اس لئے کہا ہے یعنی یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں ابرار کو اللہ تعالیٰ نے ابرار اس لئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے والدین اور بچوں کے ساتھ حسن سلوک کیا“۔اب اس میں بچوں پر جو حق ہے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا اس کا بھی ذکر اکٹھا مل گیا ہے۔تو اپنے والدین اور بچوں کے ساتھ حسن سلوک کیا۔جس طرح تم پر تمہارے والد کا حق ہے اسی طرح تم پر تمہارے بچے کا حق ہے۔الادب المفرد للبخاری۔باب بر الأب لولده) یہ روایت سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ سے لی گئی ہے۔حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دا دا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولا دکوسات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو۔پھر دس سال تک انہیں اس پر ختی سے کار بند کرو نیز ان کے بستر الگ الگ بچھاؤ“۔(سنن ابی داؤد۔کتاب الصلواۃ۔باب متى يؤمر الغلام بالصلواة) بچوں کے لئے سب سے بڑا تحفہ نماز تو انسانی زندگی کی جان ہے۔نماز نہ ہو تو کچھ بھی رشتہ خدا سے باقی نہیں رہتا۔یہ اسلام کا سب سے بڑا تحفہ ہے جو بچوں اور بنی نوع انسان کو پیش کیا گیا ہے، پانچ وقتہ نماز تو اس کی عادت ڈالنے کے لئے بھی بچپن سے تربیت کی ضرورت پڑتی ہے۔اچانک بچوں میں یہ عادت نہیں پڑا کرتی۔اس کا طریقہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھایا ہے کہ سات سال کی عمر سے اس کو ساتھ نماز پڑھانا شروع کرو اور پیار سے ایسا کرو۔کوئی سختی کرنے کی ضرورت نہیں، کوئی مارنے کی ضرورت نہیں، محبت اور پیار سے اس کو پڑھاؤ، اس کو عادت پڑ جاتی ہے۔دراصل جو ماں باپ نمازیں پڑھنے والے ہوں ان کے سات سال سے چھوٹی عمر کے بچے بھی نماز پڑھنے لگ جاتے ہیں۔ہم نے تو گھروں میں دیکھا ہے اپنے نواسوں وغیرہ کو