مشعل راہ جلد سوم — Page 693
693 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم بالکل چھوٹی عمر کے ڈیڑھ ڈیڑھ، دو دو سال کی عمر کے ساتھ آ کے تو نیت کر لیتے ہیں اور نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اس لئے کہ ان کو اچھا لگتا ہے دیکھنے میں، خدا کے حضور اٹھنا، بیٹھنا، جھکنا ان کو پیارا لگتا ہے اور وہ ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔مگر وہ نماز نہیں محض ایک نقل ہے جو اچھی نقل ہے۔لیکن جب سات سال کی عمر تک بچہ پہنچ جائے تو پھر اس کو با قاعدہ نماز کی تربیت دو۔اس کو بتاؤ کہ وضوکرنا ہے، اس طرح کھڑے ہونا ہے، قیام وقعود سجدہ وغیرہ سب اس کو سمجھاؤ۔اس کے بعد وہ بچہ اگر دس سال کی عمر تک، پیار و محبت سے سیکھتا رہے، پھر دس اور بارہ کے درمیان اس پر کچھ پختی بے شک کرو۔کیونکہ وہ کھلنڈری عمر ایسی ہے کہ اس میں کچھ معمولی سزا، کچھ سخت الفاظ کہنا یہ ضروری ہوا کرتا ہے بچوں کی تربیت کے لئے۔تو جب وہ بلوغ کو پہنچ جائے ، بارہ سال کی عمر کو پہنچ جائے پھر اس پر کوئی سختی کی اجازت نہیں۔پھر اس کا معاملہ اور اللہ کا معاملہ ہے اور جیسا چاہے وہ اس کے ساتھ سلوک فرمائے۔تو انسانی تربیت کا دائرہ یہ سات سال سے لے کر بلکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے پہلے سے بھی شروع ہو جاتا ہے، بارہ سال کی یعنی بلوغت کی عمر تک پھیلا ہوا ہے۔اس کے بعد بھی تربیت تو جاری رہتی ہے مگر وہ اور رنگ ہے۔انسان اپنی اولاد کا ذمہ دار بارہ سال کی یعنی بلوغت کی عمر تک ہے۔ایک روایت عمر بن ابی سلمہ سے ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرا ہاتھ کھانے کی پلیٹ میں ادھر ادھر چلا جاتا تھا۔آپ نے فرمایا: ”بیٹا اللہ کا نام لے، داہنے ہاتھ اور اپنے سامنے سے کھانا کھا“۔(صحیح بخاری کتاب الاطعمه باب السمية على الطعام والأكل باليمين) یہ کھانے کے آداب بھی بچپن سے ہی بچوں کو سکھانے ضروری ہیں۔یہ بچے کا حق ہے ماں باپ کے اوپر کہ اس کو ایک تو یہ سکھایا جائے کہ جو سامنے ہے وہی کھائے اور ہر طرف کھانے میں ہاتھ نہ مارتا پھرے اور دوسرے ہمیشہ بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرے۔یہ بسم اللہ کی عادت بھی اگر بچپن میں نہ ڈالی جائے تو پھر بعد میں پڑنی بہت مشکل ہے اس لئے بچپن ہی سے بسم اللہ کی عادت ڈالنا یہ بہت ہی ضروری ہے اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھانا۔کہتے ہیں میں نے اس نصیحت کو پلے باندھ لیا اور ساری عمر پھر کبھی پلیٹ میں ادھر ادھر ہاتھ نہیں دوڑائے اور جو میرے سامنے ہوتا تھا وہی کھاتا تھا اور دائیں ہاتھ سے کھا تا تھا اور بسم اللہ پڑھ کر کھاتا تھا۔ہم اللہ پڑھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بسم اللہ سے کھانا حلال ہو جائے گا بلکہ محض اللہ کو یاد کرنا ہے کہ اللہ کے حکم سے ہمیں یہ سب کچھ عطا ہوا ہے، اس کی نعمتیں ہیں۔بعض لوگوں کو بسم اللہ پڑھنے کی