مشعل راہ جلد سوم — Page 646
646 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ہو۔پیش نظر یہ بات ہو کہ میں متقیوں کا امام ہوں۔اب ظاہر بات ہے کہ بچوں کو بچپن ہی سے تقویٰ کی تعلیم دی جائے گی۔تو یہ امید کی جاسکتی ہے کہ آپ متقیوں کے امام بنیں گے۔اگر بچپن سے ہی ان کی ایسی باتوں سے روگردانی کی جاتی ہے جو نظر آ رہی ہیں کہ ان کو دین سے دور لے جارہی ہیں تو پھر وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ إماما کی دعا بالکل جھوٹی اور بے معنی ہو جاتی ہے۔ملاقاتوں کے دوران مجھے اس کا بھی بہت تلخ تجربہ ہوا۔بعض بچے، بعض بچیاں ایسے نظر آئے جن کی آنکھوں میں ذرہ بھی دین کی پرواہ نہیں تھی۔ان کی آنکھیں بول رہی تھیں۔بعض ایسی بچیاں بھی دیکھیں جنہوں نے دوپٹوں سے اپنے سر ڈھانکے ہوئے تھے لیکن ان کا سرڈھانکنا بتارہا تھا کہ آج پہلی دفعہ سرڈھانکا گیا ہے۔یعنی روز جب وہ خدا کے حضور چلتے پھرتے تھے تو اسوقت سرڈھانکنے کا کوئی خیال نہیں آیا، جب وہ میرے سامنے پیش ہوئے ہیں تو سر ڈھانک کے آئے۔ایسی صورت میں میری تکلیف میں دگنا اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ مجھے لگا کہ نعوذ باللہ من ذلک یہ میرا شرک کر رہے ہیں۔جس خدا سے ڈرنا چاہیے اس سے ڈرتے نہیں اور میں ایک عاجز حقیر بندہ جس کی کوئی بھی حیثیت نہیں اس کے سامنے بن سنور کے آتے ہیں اور دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم نیک ہیں۔نیک ہیں تو جس کو دکھانا ہے اس کو دکھا ئیں۔وہ خدا ہے جو ہر حال میں آپ پر نظر رکھتا ہے۔اگر اس کو نہیں دکھانا تویہ کسی نیکی ہے۔اس نیکی میں آپ شرک کی تلخی گھول رہے ہیں۔جس کو آپ نیکی سمجھ رہے ہیں، ہے تو بدی لیکن اس میں شرک کی تلخی بھی گھل جاتی ہے۔چنانچہ جب میں نے چھان بین کی تو ان ماں باپ نے اقرار کیا کہ یہ تو بچپن سے ہمارے قابوہی میں نہیں ہے۔میں نے کہا یہ بالکل جھوٹ بول رہے ہیں آپ۔بچپن سے آپ اپنے قابو میں نہیں ہیں۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اولاد سے سچا پیار ہو اور انسان انہیں بھینچ کے سینے سے لگائے اور پھر بجائے دنیا داری کے ان کی نیکی کا لحاظ ر کھے اور وہ اچانک بے راہ رو ہو جائے۔یہ نہیں ہوا کرتا۔اولا د آنکھوں کے سامنے بگڑا کرتی ہے۔جن لوگوں کو احساس نہ ہو وہ آنکھیں بند رکھتے ہیں۔اس لئے کہ ان کی دنیا داری سے خوش ہو رہے ہوتے ہیں اور دین کی کوئی حقیقی پر واہ نہیں ہوتی۔مجھے دعا کے لئے کہہ رہے تھے کہ دعا کرو۔میں نے کہا انا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ کے زندگی بھر کے عمل کے خلاف میری دعا کیا کرے گی۔مجھے ان سے ہمدردی تو ہے، تکلیف تو ہے مگر آپ کا عمل میری دعا کو جھٹلا رہا ہے۔میں دعا کروں گا اللہ تعالیٰ ان کو ٹھیک کر دے۔آپ کا عمل پکار پکار کے کہہ رہا ہے کہ اے خدا با لکل نہیں ٹھیک کرنا۔ہمیں ایسی ہی تربیت چاہیے تھی جو ہم نے کر دی ہے۔