مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 630 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 630

مشعل راه جلد سوم 630 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا آغاز ہے جس کی کوئی حد نہیں ہے۔اسفل السافلین اس کی حد ہے۔سب سے زیادہ ذلیل مخلوق خدا کے نزدیک جو بھی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگ جو اطاعت سے محروم ہوتے ہیں وہ اسفل السافلین ہو جاتے ہیں۔گرتے گرتے آخری مقام تک جہاں تک انسان گر سکتا ہے گرتے چلے جاتے ہیں۔یہ حال ان لوگوں کا ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا دم تو بھر الیکن اپنی آراء کو فوقیت دے کر اپنے اندر بتوں پر بُت بناتے چلے گئے یہاں تک کہ ان کا دل اس خانہ کعبہ کی طرح ہو گیا جو تو حید کا علمبر دار تھا لیکن بتوں سے بھرا پڑا تھا۔ایسے ہی یہ موحد ہیں جن کے متعلق مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ بڑے سے بڑے موحد اور سینے بتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔پس ان بار یک باتوں پر نظر رکھیں اور ہر گز کسی بات کو توفیق نہ دیں کہ وہ آپ کے دل میں جگہ بنالے اور نشانی یہ ہے کہ اگر پھوٹ ہے جماعت میں افتراق ہے تو قطعی علامت ہے لازماً بت موجود ہیں۔وہاں بت شکنی کی ضرورت ہے اور بعض بڑی بڑی اچھی جماعتوں میں بعض لوگ ایسے بتوں کی پوجا کرتے اور ان کے پیغامات کو جماعت میں پھیلا کر افتراق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ابھی کل ہی مجھے ایک فیصلہ کرنا پڑا ایک جماعت کے متعلق جہاں بھری جماعت میں صرف چار ایسے افراد تھے جنہوں نے افتراق شروع کیا ہوا تھا اور مجھتے تھے کہ ہم نیکی کی تعلیم دے رہے ہیں، ہم زیادہ بہتر سمجھتے ہیں لیکن جس طرح بھی وہ تعلیم دے رہے تھے جو بھی کر رہے تھے وہ جانتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں دل پھٹے ہیں، اس کے نتیجے میں گروہ بندی ہوئی ہے اور یہ پہچان بت پرستی کی پہچان ہے۔اگر گروہ بندی ہوئی ہے تو وہ لوگ لا زما ذمہ دار ہیں۔بظاہر وہ تو حید کی تعلیم دے رہے ہیں لیکن دراصل شرک پھیلا رہے ہیں۔ادبار اور تنزل کے نشانات ہیں۔مسلمانوں کے ضعف اور تنزل کے منجملہ دیگر اسباب کے باہم اختلاف اور اندرونی تنازعات بھی ہیں“۔اور بھی وجوہات ہیں تنزل کی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت ساری وجو ہات پیدا ہوئیں جس کے نتیجے میں انہوں نے تنزل اختیار کیا مگر ایک وجہ جو بہت کڑی وجہ ہے وہ باہمی اختلاف تھے۔پس اگر اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے پھر جس کام کو چاہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اس میں یہ تو سر ہے۔اللہ تعالیٰ توحید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہو سکتی جب