مشعل راہ جلد سوم — Page 626
626 مشعل راه جلد سوم ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو آپ کو سمجھا اس کی رو سے وقتی طور پر ایسی صورتوں میں اس اولوالامر کی طرف رجوع کرو جو روحانی اولوا الامر ہے کیونکہ اصل وہی ہے اور دنیاوی اولوا الامر کو چھوڑ دو۔یہ مضمون میں نے پہلے بھی بارہا سمجھایا ہے اور اب پھر نظام جماعت کے حوالے سے دوبارہ ضرورت ہے یعنی دنیا میں احمدیوں کو جو حکومتوں کے سامنے مسائل پیش ہوتے ہیں وہ ایک الگ مسئلہ ہے۔میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہر جماعت کے دائرے میں کوئی شخص بھی یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ یہ میرا اولوالامر تھوڑے دائرے میں ہے خلیفہ وقت میرا اولی الامر زیادہ وسیع دائرے میں ہے اُس کے حکم کو یہ شخص ٹال رہا ہے اس لئے میں اس کی بات نہیں مانتا۔اگر یہ سلسلہ شروع ہو جائے تو فساد کا ایک ایسا دروازہ کھل جائے گا جو کبھی بھی بند نہیں ہوسکتا۔یہاں جا کر لوگوں کا دماغ کنفیوژ ہو جاتا ہے۔وہ بار یک فرق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔یہی وجہ ہے کہ یہ مضمون اگر چہ میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں مگر پھر مجھے نظام جماعت کی خاطر اسے بیان کرنا ضروری ہے۔اگر کوئی شخص صاحب امر ہونے کی وجہ سے کسی کو کہتا ہے کہ نماز چھوڑ دو تو وہاں اس کے ذرہ بھی تر درد کی گنجائش نہیں۔وہ کہے جاؤ اپنے گھر بیٹھو تم اولوا الامر ہو اس دائرے کے اندر جو قرآن کے دائرے کے اندر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کے دائرے کے اندر ہے اور اس دائرے میں فرائض میں فرائض کا ترک ناممکن ہے لیکن فرائض سے کم کے جو ترک ہیں وہ ممکن بھی ہو سکتے ہیں۔یہ فرق نہ سمجھنے کی وجہ سے سارا فساد برپا ہوتا ہے۔فرائض کا ترک بالکل واضح ہے وہ محکمات میں سے ہے کوئی دنیا میں اختیار نہیں رکھتا کہ ان محکمات کو تبدیل کر سکے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تو کوئی وہم و گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ آپ محکمات کو نظر انداز کریں گے مگر دنیا والے جو محکمات کو نظر انداز کرتے بھی ہوں وہ اس کا حکم نہیں دے سکتے۔یہ بھی عجیب بات ہے کہ بعض لوگ خود محکمات کو نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں۔یہ گناہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک ان کا شخصی گناہ ہے لیکن اگر وہ دوسروں کو کہہ دیں کہ یہ چھوڑ دو تو یہ بہت بڑا گناہ بن جاتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے اوپر حاکم بنے والی بات ہے۔ایک حکم کی آپ تعمیل نہ کر سکیں اور بجز اور شرم ہو اور حیا ہو۔یہ گناہ ایک انفرادی گناہ ہے لیکن اگر اس قدر جسارت کریں کہ دوسرے کو وہ حکم دیں جو حکم دینا آپ کے اختیار میں نہیں ہے تو یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو