مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 608 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 608

مشعل راه جلد سوم 608 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ اس ضمن میں میں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت ابو ہریرہ سے یہ روایت ہے اور یہ ترمذی کتاب الصلوۃ سے لے گئی ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا بندوں سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔تو جس کا سب سے پہلے حساب لیا جا رہا ہے اس کو سب سے آخر پر ہم نے رکھا ہوا ہے۔اپنی زندگیوں میں نماز کو اولیت نہیں بلکہ آخر پر رکھا جاتا ہے کہ جب سارے کاموں سے فارغ ہو کے کچھ وقت مل جائے تو نماز بھی پڑھ لی۔ورنہ نماز کو اولیت ہونی چاہیے اور دوسرے کاموں کو ثانوی درجہ دینا چاہیے۔قیامت کے دن تو سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا اور وہ لوگ کیا حساب پیش کریں گے جن کی دنیا میں نماز سب سے آخر پر رکھی گئی ہو۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کو غور سے سنیں ، فرماتے ہیں: ” قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا بندوں سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔اگر یہ حساب ٹھیک رہا تو وہ کامیاب ہو گیا اور اس نے انجام پالیا پس اس حساب کو ٹھیک کریں ، یہیں ٹھیک کرلیں، مرنے کا پتہ کوئی نہیں۔کسی وقت بھی جان لینے والا فرشتہ آسکتا ہے۔کسی وقت بھی بیماری یا بغیر بیماری کے جان چلی جاتی ہے۔حادثے ہوتے رہتے ہیں۔بیماریاں آتی رہتی ہیں۔یہاں تک کہ بعض لوگوں کو بغیر بیماری کے ہی سوتے میں موت آجاتی ہے۔جب موت کا یہ عالم ہے کہ ہر طرف سے جب چاہے آجائے اور ہمارا اس پر اختیار کوئی نہیں تو پھر ظاہر بات ہے کہ یہ نماز کا حساب ٹھیک کرنے کا وقت ہمارے پاس بہت تھوڑا ہے۔اپنے ہوش وحواس میں جب تک زندگی کے دن ہیں نمازیں درست کر لو۔اگر غفلت ہوئی تو پھر جسے انگریزی میں کہتے ہیں too late یعنی بہت تاخیر ہو چکی ہوگی کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور نمازوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو حساب بنا رکھا ہے جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے کھولا ہے یہ ایک بہت ہی منصفانہ حساب ہے۔اس سے بہتر انصاف کا تصور ممکن ہی نہیں ہے۔جب فرمایا اگر یہ حساب ٹھیک رہا تو کامیاب ہوا تو اس کی تفصیل بھی بیان فرمائی کہ حساب کیسے ہوگا۔اس کے بعد فر مایا کہ اگر یہ حساب خراب ہوا تو وہ نا کام ہو گیا اور گھاٹے میں رہا۔اب حساب اس طرح ہوگا۔اگر اس کے فرضوں میں کوئی کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ دیکھو میرے بندے کے کچھ نوافل بھی ہیں۔اب فرضوں میں ہم سے جو کوتا ہی ہو جاتی ہے اس کو درست کرنے کے لئے نوافل جاری فرمائے گئے اگر ہم فرض ہی ادا نہ کریں تو نوافل کا تو ذکر ہی کوئی نہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے نوافل کی ضرور توقع رکھتا ہے۔اس کی خاطر توقع رکھتا ہے کیونکہ نماز کے حساب میں تو کوئی کمی نہیں کی جائے گی وہ تولازم ہے اور جب یہ لازم ہوا تو پھر سہولت