مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 607 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 607

607 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم وَالْمُنْكَرِ کیونکہ جہاد بدیوں کے خلاف ہے تو نماز سے بہتر بدیوں کے خلاف جہاد کا طریقہ اور کوئی چیز نہیں سکھا سکتی پس نماز کو مضبوطی سے پکڑ لے۔نماز فحشاء، ہر قسم کی پھیلنے والی متعدی بیماریاں جو اخلاقی بیماریاں ہوں ان سے بھی منع فرماتی ہے اور عام ناپسندیدہ باتوں سے بھی منع فرماتی ہے۔وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ اللہ کا ذکر ہے جو دراصل سب سے بڑا ہے۔وہی نماز نَهِی عَنِ المُنكَرِ کی تعلیم دے گی ، وہی فحشاء سے روکے گی جو اللہ کے ذکر سے بھر جائے اور اللہ کا ذکر نماز کے بعد بھی کیا جائے تو پھر بھی یہی نتیجہ پیدا کرے گا۔مومن کی زندگی میں دن رات ذکر الہی اس طرح شامل فرما دیا گیا کہ نہ وہ نماز کی حالت میں اس سے الگ رہیں نہ نماز کے علاوہ اس سے الگ رہیں۔وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ 0 اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔اس حصہ کا کیا مقصد تھا؟ اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔وجہ یہ ہے بہت سے لوگ نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز نہ خود ان کو منکر سے روک سکتی ہے نہ خودان کو فحشاء سے روک سکتی ہے۔جبکہ اللہ فرمارہا ہے نماز ضرور روکتی ہے۔تو یہ بتانا مقصود ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ وہم ہوتا ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں۔جبکہ حقیقت میں وہ نماز پڑھنے کا حق ادا ہی نہیں کرتے اور یہ پہچان کہ نماز نہیں پڑھتے ، وہ نماز کے بعد کی حالت بتاتی ہے۔نماز کے بعد اگر وہ اسی فحشاء میں واپس چلے جائیں، اسی منکر کی طرف واپس لوٹ جائیں جس میں وہ پہلے ہوا کرتے تھے تو خدا کا پیغام تو بہر حال سچا ہے ان کا عمل جھوٹا ہے ان کو وہم ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ نماز نہیں پڑھتے۔یہ جو مضمون نماز والا ہے اس کے متعلق میں نے مجلس خدام الاحمدیہ کو خصوصیت سے توجہ دلائی تھی کہ نوجوانوں کو اور بچوں کو نماز یہ قائم کریں اور نماز پہ قائم کرنے کے علاوہ ان کو نماز کا مضمون سمجھائیں۔کیونکہ نماز اگر مجھ کر ادا کی جائے تو پھر دل واقعہ نماز میں اٹک سکتا ہے۔اگر پتا نہ ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں تو خیالات ہمیشہ بکھرے ہی رہیں گے اور مجبور اوہ نمازیں بظاہر تو پڑھی جا رہی ہوں گی مجبوری کی خاطر مگر حقیقت میں یہ وہ نمازیں نہیں ہوں گی جن کا ذکر قرآن کریم نے فرمایا ہے۔پس ہمیں گہری نظر سے حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔نمازی تو کثرت سے دنیا میں ہیں لیکن جن کے من پرانے پاپی ہوں ان کو سجدے کی ٹھوکروں میں سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا۔وہ یہی شکوے کرتے رہتے ہیں کہ سجدے کئے ہیں مگر پرانا پاپی من تھا ذرہ بھی فائدہ نہیں ہوا۔پس آپ لوگ ان پاپیوں میں سے تو نہ بنیں کیونکہ آپ نے تو پاپ دور کرنے ہیں۔ساری دنیا کی اصلاح کا بیٹر اٹھایا ہے اور ساری دنیا سے منکر کو دور کرنا اور فحشاء کو دور کرنا آپ کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔تب آپ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہم وہ بہترین قوم ہیں جو بنی نوع انسان کی سچی خدمت کے لئے قائم کی گئی ہے۔