مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 584 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 584

مشعل راه جلد سوم 584 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نہیں ہوا کرتی۔ان کو یہ سمجھائیں کہ کیا ہو گیا ہے۔تم فیشن کی پیروی کرنے والے نہ بنو، فیشن بنانے والے بن جاؤ۔وہ بنو جس کے پیچھے لوگ چلا کرتے ہیں۔تو اگر بچے سمجھ جائیں بات کو تو ان کے اندر تبدیلی ہوتی ہے۔انگلستان میں بارہا ایسا مجھے تجربہ ہوا ہے۔کئی بڑے بڑے چھتوں والے میرے پاس آئے ، بعضوں نے گئیں بنائی ہوئیں تھیں اور میں نے کہا یہ تم نے کیا کیا ہوا ہے۔تو ماں باپ نے کہا کہ یہ بات نہیں مانتا۔آپ چھوڑ دیں اس کو۔میں نے کہا کیوں نہیں مانتا۔میں ابھی سمجھاتا ہوں اس کو اور اگلی دفعہ آئے بالکل ناریل ، گتیں کاٹی ہوئیں، بعضوں نے میرے سامنے ہی اپنے تعویذ نوچ پھینکے کہ آج کے بعد ہم نہیں پہنیں گے یہ ذلیل چیز۔تو سمجھانے سے انسان اپنے اندر تبدیلی پیدا کیا کرتا ہے اور سمجھانے سے اندر کا انسان بدلتا ہے۔جب تک آپ اندر کے انسان کو نہیں بدلیں گے بیرونی انسان بدلنے سے کیا حاصل ہوگا۔پس وہ سوسائٹی جو مخالفانہ اثر رکھنے والی سوسائٹی ہے اس نے تو ہر وقت آپ کے بچوں کو آپ سے چھینے کی کوشش کرنی ہے۔آپ کا جواب یہ ہونا چاہیے کہ ان کے اندروہ دفاع پیدا کر دیں کہ سوسائٹی کو جرات نہ ہو ان کو بدلنے کی اور وہ سوسائٹی کو بدلیں اور اپنے گرد و پیش میں تبدیلیاں پیدا کریں۔پس وہ احمدی جو نواحمدی ہیں مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ اب ہم امریکہ کو کیسے بدلیں گے۔ان کو میں یہ جواب دے رہا ہوں کہ اسی طرح بدلیں گے جیسے ایک انسان حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری سوسائٹی کو بدل دیا تھا اور اس میں تبدیلی پیدا کرنے والی ایسی باتیں پیدا ہو چکی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ساری دنیا کو تبدیل کرنے کے لئے مقرر فرما دیا۔آج وہ ہم میں نہیں مگر ان کی قوت قدسیہ ہم میں موجود ہے۔وہی قوت قدسیہ ہے جس نے مسیح موعود کو پیدا کیا ہے، وہی قوت قدسیہ جو آج جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے نیکی کے لئے محبت کرنے والے پیدا کر رہی ہے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آج سے چودہ سو سال پہلے ساری دنیا کو بدلنے کے لئے اگر پیدا کیا جاسکتا تھا تو آخر کیوں پیدا کیا گیا تھا۔اس لئے کہ آپ نے اپنے اندر وہ تبدیلی پیدا کر لی تھی جو ماحول کو بدلا کرتی ہے۔آپ ایک ذرہ بھی ماحول سے متاثر ہونے والے نہیں رہے۔پس اپنے اندر وہ انسان پیدا کریں اور اپنے بچوں میں وہ انسان پیدا کریں کہ متاثر ہونے کی بجائے مؤثر ہو جائے اور یہی خاتم کا دوسرا نام ہے۔بعض لوگ سمجھتے نہیں کہ خاتمیت کیا چیز ہے۔تو آنکھیں بند کر کے بس خاتمیت کا لفظ اٹھائے چلے جاتے ہیں کہ اب نبی کوئی نہیں، نبی کوئی نہیں۔خاتمیت تو ایک ایسی مہر ہے جو محمد رسول اللہ کے ہر غلام میں لازماً پیدا ہونی چاہیے۔خاتمیت کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری مہر دوسرے پر اثر انداز ہو جیسے تم ہو کم سے کم ویسا تو بن سکے اور اسی میں ہمارے لئے ایک خوش خبری بھی ہے اور ایک خطرے کا