مشعل راہ جلد سوم — Page 576
576 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم پس اس معاشرے میں جہاں ماحول نیکیوں کے مخالف ہے، جہاں بدیوں کو تقویت دینے والا ہے وہاں بچپن ہی سے نیکیوں سے ذاتی لگاؤ پیدا کرنا اور اس کے لئے روزمرہ کے مواقع سے فائدہ اٹھانا بہت ضروری ہے۔فائدہ اٹھانا اس لئے کہ اگر آپ محض تلقین کریں گے تو یہ تلقین ضروری نہیں کہ بچے پر نیک اثر ڈالے۔بچوں سے کچھ کام کروا کے دیکھیں، کچھ نیکی اس سے ایسی صادر ہو جس میں آپ اس کے مددگار ہوں پھر دیکھیں کہ اس کے دل پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے۔میں نے کئی دفعہ مثال دی ہے ہمیں بچپن میں چندہ دینے کی عادت ماں نے ڈالی۔کچھ پیسے وہ دیا کرتی تھیں اور پھر کہتی تھیں دوسرے ہاتھ سے کہ اللہ میاں کے لئے واپس کر دو۔چونکہ اس میں جبر کوئی نہیں تھا بلکہ ایک تحریص تھی ، اس لئے جب ہم واپس کرتے تھے تو مزہ آتا تھا اور دن بدن، سال بہ سال یہ احساس برھتا گیا کہ ہمارا بھی نام ان لوگوں میں ہے جنہوں نے دین کی خاطر کوئی قربانی کی ہے۔اس کے بعد یہ سکھانے والا باقی رہے نہ رہے، یہ نیکی ضرور باقی رہ جاتی ہے۔ہو نہیں سکتا کہ زندگی بھر ساتھ نہ دے۔پس نیکی کا مزہ صرف سمجھانے سے نہیں آئے گا، نیکی کا مزہ نیکی کروانے سے آئے گا اور یہ وہ چیز ہے جس کی اس معاشرے میں شدید ضرورت ہے۔بچوں میں خود اعتمادی پیدا کریں دوسری بات ، یعنی اور بہت سی باتیں ہیں جو میں نے نوٹس کے طور پر اپنے سامنے رکھی ہیں لیکن یہ ایک ایک بات بھی اگر پھیلائی جائے تو بہت پھیل سکتی ہے۔دوسری بات جو سمجھانے کی ضرورت ہے وہ خود اعتمادی پیدا کرنا ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جب بچے باہر سکولوں میں جاتے ہیں تو بعض لوگ ان کو حقارت سے دیکھتے ہیں، ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔لیکن ان میں اگر خو داعتمادی ہو اور ماں باپ ان کو پہلے سمجھا چکے ہوں کہ تمہاری نیکیوں پر سوسائٹی تمسخر اڑائے گی تمہیں ذلیل نظروں سے دیکھے گی لیکن تم نے سر اٹھا کے چلنا ہے۔اگر کہیں سر اٹھانا جائز ہے تو اس موقع پر سر اٹھانا جائز ہے اور لازم ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بتائیں کہ تم کوڑی کی بھی پرواہ نہ کرو جو چاہے دنیا کہتی پھرے، جس طرح چاہے دیکھے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہارا کردار تب بنے گا کہ تم جن باتوں کو اچھا سمجھتے ہوا نہیں کرنے کی جرات رکھتے ہو۔چنانچہ بہت سی احمدی بچیوں کی تربیت میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مجھے اسی اصول سے فائدہ اٹھانے کی توفیق ملی۔کئی ایسی بچیاں ہیں انگلستان میں جو پردے کی عمر کو پہنچیں لیکن سوسائٹی سے متاثر ہوکر پردے کے لئے تیار نہیں تھیں اور ماں باپ کے سامنے بھی انہوں نے کہا نہیں، ہم نہیں یہ کام کرسکتیں۔جب