مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 570 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 570

570 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اس میں وہ بدی ایک مستقل دائمی شکل اختیار کر جاتی ہے۔یہ وہ پہلو ہے جس کے متعلق میں آپ کو بھی متوجہ کر رہا ہوں اور انگلستان میں اکثر جوان مسائل میں دلچسپی لینے والے سوشل راہنما یا سیاسی راہنما ہیں وہ جب مجھے سے گفتگو کے لئے آتے ہیں تو میں ان کو سمجھاتا ہوں کہ تم بنیادی طور پر ایک غلطی کر رہے ہو۔مثلاً بعض چھوٹے بچوں کو وہاں قتل پر آمادہ کرنے والے گروہ بن چکے ہیں اور ان سے وہ قتل کرواتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان کو سزا نہیں ملے گی۔اسی طرح چوری، ڈاکہ سکولوں میں ڈرگ اڈکشن (Drug Addiction) کے لئے اس قسم کے گروہ تیار کئے جاتے ہیں اور یہ محض غلط قانون سے ناجائز فائدہ اٹھانا ہے۔جب تک قوانین درست نہ ہوں اس وقت تک انسان کی صحیح تربیت اور معاشرے کی صحیح اصلاح ممکن ہے۔مگر ہمیں جس نے قانون دیا یعنی اللہ تعالیٰ ، اس نے ایک ایسا قانون دان عطا فرمایا جس سے بڑھ کر کوئی قانون دان دنیا میں کبھی پیدا نہیں ہوا یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔آپ نے قرآن کے قانون کو سمجھا اور اپنی امت میں اسے جاری فرمایا۔یہی ایک پہلو آپ دیکھیں کہ جب گفتگو آگے بڑھی وہ تمام ملنے والے اس بات پر یقینی طور پر مطمئن ہو کر گئے کہ ہمارے معاشرے کی غلطی ہے۔اس کی اصلاح کے بغیر ہم کسی تربیت کا دعوی نہیں کر سکتے۔کیونکہ ان کی بلوغت تک پہنچتے پہنچتے یعنی اٹھارہ سال یا اکیس سال تک اگر بدی کی سزا نہ دی جائے تو بچے کو بدی پر جرات پیدا ہو جاتی ہے اور یہ وہ عمر ہے جس میں جرات ایک دوام اختیار کر جاتی ہے، ایک ایسی عادت بن جاتی ہے کہ جسے پھر چھوڑ ناممکن نہیں رہتا۔چنانچہ اکثر انگلستان میں بھی اور یورپ کی دوسری سوسائیٹیوں میں بھی ایسے بدبچے بالغ بنا کر سوسائٹی میں پھینکے جاتے ہیں جو اپنی بدیوں پر پختہ ہو چکے ہوتے ہیں۔جسے Drug Addiction کی شروع سے عادت پڑ گئی ہو، جسے ڈرگ بیچ کر پیسے لینے کی عادت پڑ جائے، کیسے ممکن ہے کہ وہ اٹھارہ سال یا اکیس سال کے بعد قانون کے ڈر سے ان عادات کو چھوڑ دے۔تو معمولی سی عقل کی بات ہے۔اسے استعمال کر کے اگر دیکھا جائے ، جیسا کہ یہ لوگ نہیں دیکھ رہے بدقسمتی سے، تو انسان لازماً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی طرف لوٹے گا۔پس تربیت کا آغاز شروع سے ہونا چاہیے اور بارہ سال کی عمر تک پہنچ کر اس تربیت کو اتنا مکمل ہو جانا چاہیے کہ اس کے بعد بچہ اپنے سیاہ وسفید کا مالک ہو اور پھر اگر وہ سوسائٹی کا جرم کرے تو سوسائٹی اس کو سزا دے۔اگر خدا کا جرم کرے تو خدا سزا دے گا۔ماں باپ کا کام نہیں کہ اس کو سزا دیں۔یہاں پہنچ کر معاشرے اور احمدی ماحول کے طرز عمل میں ایک فرق ہے جو میں آپ کے سامنے نمایاں طور پر رکھنا چاہتا ہوں۔