مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 571 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 571

571 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم بہت سے بچے اور بچیاں جو امریکہ کے ماحول میں پیدا ہوئے ان کے متعلق ماں باپ بہت سے تو نہیں کہنا چاہیے مگر کئی ایسے ہیں کہ ان کے ماں باپ بہت تکلیف محسوس کرتے ہیں ، روتے ہیں، گریہ وزاری کرتے ہیں۔مجھے خط لکھتے ہیں کہ ہماری جوان بچیوں کو کیا ہو گیا۔بہت اچھی اور نیک اور مخلص تھیں، بے حد دین سے تعلق تھا، نمازیں بھی پڑھتی تھیں۔مگر اچانک جب کالجوں میں گئی ہیں تو ان کی کایا پلٹ گئی۔میں انہیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ اچانک کچھ نہیں ہوا کرتا۔انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ بچیاں جو دل سے نیکی پر قائم ہو چکی ہوں اچانک معاشرے میں جا کر ان کی کیفیت بدل جائے۔لا ز ما دل میں کچھ دبی ہوئی خواہشات رہی ہیں جن کو گھر میں پینے نہیں دیا گیا اور جن کو سنبھالنے کے لئے کوئی ذہنی کوشش نہیں کی گئی۔اس لئے اب یہ دوسرا پہلو ہے جس کی طرف میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔یہ کوششیں بھی بارہ سال سے پہلے پہلے کام کر جائیں گی اور نہ نہیں کریں گی۔یعنی بلوغت کا آغاز جس کو میں بارہ سال کہہ رہا ہوں، اس میں بچے کے اپنے دل میں خصوصیت کے ساتھ ایسی جنسی خواہشات جنم لینے لگتی ہیں جن سے وہ مغلوب ہو جاتا ہے اور اگر ان امور میں پہلے ہی اس کی تربیت کی گئی ہو تو وہ ذہنی طور پر اس کے لئے تیار ہوگا اور اس تربیت میں ماں باپ کو اپنے بچوں کے ساتھ وقت لگانا ہوگا بجائے اس کے کہ سکولوں کے اوپر چھوڑ دیا یا کالجوں پر چھوڑ دیا جائے۔میں نے یہ دیکھا ہے کہ جن ماں باپ نے بچوں پر اس لحاظ سے محنت کی ہو کہ ان کو نیکی اور بدی کی تمیز سکھائی گئی ہو، اس طریق پر سکھائی گئی ہو کہ وہ زندگی کا فلسفہ بن جائے وہ بچے اسے زندگی کے فلسفے کے طور پر قبول کریں۔اور یہ پہلوتر بیت میں بہت ہی اہم ہے کہ تعلیم کے ساتھ تعلیم کا فلسفہ بتایا جائے۔کیونکہ قرآن کریم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسے معلم کے طور پر پیش فرمایا ہے جو يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ كَروه صرف تعلیم کتاب پر اکتفاء نہیں کرتا وہ اس کی حکمت بھی سمجھاتا ہے۔پس جو خرابی میں نے دیکھی ہے اس میں ان دو چیزوں کے اندر جو فرق کیا جاتا ہے یہی فرق ہے جو آئندہ خرابیوں کا موجب بنتا ہے۔ماں باپ کہتے ہیں ہم نے ان کو تعلیم دی، ان کو بچپن سے نمازیں پڑھنی سکھائیں اور قرآن کی تلاوت بھی یہ کیا کرتے تھے وغیرہ وغیرہ۔لیکن اس تعلیم کی حکمت نہیں بتائی گئی اور حکمت ایسی چیز ہے جو دل کو اس تعلیم کے ساتھ اس طرح جوڑ دیتی ہے کہ پھر آئندہ کبھی وہ الگ نہیں ہو سکتی۔مثلاً باہر کی دنیا میں جو ان کو دلچسپیاں دکھائی دیتی ہیں ان کی مثال ایسے جانوروں سے بھی دی جاسکتی ہے جو بظاہر بڑے خوبصورت ہیں۔مثلاً سانپ ہے۔بعض دفعہ