مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 558 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 558

مشعل راه جلد سوم 558 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ سب سے پہلی بات تو یہ یا درکھیں کہ اگر مرکزی کسی ایک کمیٹی کو یہ کہا جائے کہ آپ (بیت الذکر ) Plan کریں یعنی (بیوت الذکر) کے منصوبے بنا ئیں ، تو سال بھر تو ان کو منصوبے بنانے میں لگ جائے گا اور جب وہ بنائیں گے تو پھر سوچیں گے کہ ایک کو پہلے ہاتھ ڈالیں یادو کو ڈالیں یا تین کو ڈالیں۔تو تین سال تو انہی باتوں میں گزر جائیں گے اور بمشکل ایک دو یا تین کے سوا وہ کچھ بھی آپ کے سامنے پیش نہیں کر سکیں گے یا خدا کے سامنے پیش نہیں کر سکیں گے۔جب جلدی کے وقت ہوں تو اسی نسبت سے تنظیم کو اعلیٰ ، بالکل واضح اور قطعی ہو جانا چاہیے۔اس لئے پہلی میری نصیحت تو آپ کو یہ ہے کہ جماعت جر منی اگر ایک کمیٹی بنائے تو اس کو چند دن معین دیں۔ان معین دنوں کے اندر اندر آپ سو ( بیوت الذکر ) کی جگہیں طے کریں، علاقے طے کریں اور ان علاقوں سے وابستہ جماعتوں کو متعین کریں کہ یہ جماعتیں مل کر ان علاقوں کا خیال کریں گی اور ان علاقوں میں پھر فوری طور پر مرکزی کمیٹیاں بنائیں۔جن کا کام ہو کہ آج ہی سے وہ اجازتیں بھی لینا شروع کریں حکومت سے۔زمین کی تلاش شروع کریں اور پھر جو بھی مالی ضرورت پیدا ہوگی آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو پورا کرتا چلا جائے گا مگر سو جگہوں پر مسلسل ساتھ ساتھ کام ہونا ضروری ہے۔آج ہی سے شروع ہونا چاہیے۔کل کا انتظار بے سود ہے کون سا وقت ہمارے پاس رہ گیا ہے۔اس لئے سو ( بیوت الذکر) کے لئے الگ الگ کمیٹیاں اپنی اپنی ( بیت الذکر ) کے لئے فوری طور پر سر جوڑ کر بیٹھیں اور یہ فیصلہ شروع کریں کہ کہاں سب سے اچھی بہترین جگہ مل سکتی ہے اور پھر اس کے متعلق انتظامی کارروائیاں فورا شروع کریں۔جو زمین جتنے کی ملتی ہے اس کے متعلق امیر صاحب کو لکھیں ، امیر صاحب ساتھ ساتھ مجھے لکھنا شروع کریں تو بجائے اس کے کہ ایک مرکزی کمیٹی دویا تین ( بیوت الذکر ) کی پلاننگ کر کے منظور یاں لے ستر اسی لاکھ کا منصوبہ بنائے۔ایسا منصوبہ بنائیں جس پر روزمرہ عمل کیا جا سکتا ہے اور وہ اسی طرح ہے کہ ہر حصے کی کمیٹیاں الگ الگ۔ہر حصے کی (بیوت الذکر ) کا فیصلہ کرنا ان کا کام ہو۔اپنے ساتھ وہ ٹیم لے کر آگے چلیں اور پھر چندہ اکٹھا کرنے والے الگ ہوں اور یہ کام کرنے والے اور منصو بہ بنانے والے الگ ہوں۔مجھے جو گزشتہ چند دنوں میں جماعت جرمنی کے نئے بچوں سے واسطہ پڑا ہے مجھے ان سے بہت تو قعات ہیں اور ان کو میں نے بہت پہلے سے سدھرا ہوا پایا ہے۔سوال جواب سے بھی ظاہر ہوتا ہے مگر روز مرہ ان کے دیکھنے سے، ان کی باتوں سے ملاقات میں جب مجھ سے ملتے ہیں مجھے خدا تعالیٰ کے اس عضل کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے الفاظ نہیں ملتے کہ اللہ نے آپ کی نئی نسل کو سنبھال لیا ہے۔بہت پیارے