مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 550 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 550

550 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم فرماتا ہے ایسے ہی لوگ ہیں جن سے پھر آگے نبی بنتے ہیں مگر اس مقام تک نہ پہنچیں۔اس کے پیچھے چلنے والوں کے ادنی تقاضوں کو تو پورا کریں۔کیونکہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کے بعد پھر اگلا حکم یہی ہے کہ اگر واقعہ اے میرے بندو! تم میری ہی عبادت کرتے ہو مجھ سے مدد چاہتے ہو تو میں تمہیں مدد کا رستہ دکھاتا ہوں۔یہ دعا کرو اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اے ہمارے اللہ ! ہمیں اُس سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرماصِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ ان لوگوں کا رستہ جن پر تو نے انعام فرمایا تھا۔ہمیں توفیق بخش کہ ہم ان کے پیچھے چلیں۔وہ رستہ تو بہت دور تک آگے چلا جاتا ہے۔اس قافلے کے سر پر تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آگے بڑھ کر قدم اٹھا رہے ہیں مگر پیچھے آنے والوں میں سے وہ جلوس جو آخرین تک آپہنچا ہے اس جلوس کی قیادت حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرما رہے ہیں۔ان کے پیچھے آپ کے آباؤ اجداد بھی تو ہیں۔اے جماعت جرمنی کے احمد یو! جن کے آباؤ اجداد میں ( رفقاء ) یا ( رفقاء) سے تربیت پانے والے لوگ تھے یہ سوچا کرو کہ جس خدا کی توحید کا آپ نے اقرار کیا، جس کی عبادت کے وعدے کئے ، جس سے مدد مانگی، اس کی یہ آواز بھی تو سنو کہ اگر تم مجھ سے مدد چاہتے ہو تو مجھ سے یہ دعا کرو کہ تم سے پہلے جو نیک رستوں پر چلنے والے نیک لوگ تھے تم ان کے پیچھے چلو گے۔تو وہ جو فرق پڑا تھا تو حید کا اس میں ایک شبہ یہ پڑتا ہے کہ پہلے لوگوں کی غفلت کی وجہ سے آپ لوگوں کی تربیت میں کمی آگئی ہومگر یہ جو دوسرا پہلو میں بیان کر رہا ہوں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خود آپ کی غفلت ہے کہ آپ ان کے پیچھے نہیں چل رہے۔انہوں نے تو گرتے پڑتے جیسا بھی بن پڑی خدا سے انعام پانے والوں کی پیروی کی تھی۔وقت کے تقاضوں کے خلاف ان کی پیروی کی تھی۔بڑھتی ہوئی مخالفتوں کے باوجود ان کی پیروی کی تھی۔وہ تو آگ کے شعلوں سے گزر کر بھی اس قافلے کے پیچھے ہی چلتے رہے۔کئی ان میں سے ایسے بھی تھے جو واقعہ زندہ جلا دیے گئے کئی وہ تھے جو پتھراؤ کے نتیجے میں رستوں کا ڈھیر ہو گئے مگر پیچھے چلنا نہیں چھوڑا۔آپ ان کی اولاد ہیں۔ان آباؤ اجداد کی نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔تو تو حید کو اس طرح بھی تو قائم کریں کہ خدا سے جو مانگا کہ اے خدا! ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔اس نے جو آپ کو سمجھایا کہ میری عبادت کرتے ہو تو پھر ان لوگوں کے پیچھے چلو جو نیک لوگوں کے رستوں پر چلنے والے لوگ تھے۔اس رستے کو کیوں چھوڑ بیٹھے ہو۔اپنے آباؤ اجداد کی نیکیوں کو زندہ رکھو پس اسی پہلو سے میں بار بار آپ کو توجہ دلاتا رہا ہوں اور سب دنیا کو توجہ دلاتا رہا ہوں کہ اپنے آباؤ اجداد