مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 547 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 547

547 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم آپ نے جو نظارہ دیکھا اس میں مختلف قوموں کے نمائندے اپنی اپنی قوم کے مقابلوں میں انعام لینے کے نتیجے میں آپ کے سامنے ظاہر ہوئے۔کوئی بوسنین قوم سے تعلق رکھتا تھا، کوئی Albanian سے، کوئی جرمن قوم سے۔غرض یہ کہ جتنی بھی تو میں یہاں اس وقت موجود ہیں وہ سب کی سب نہ سہی مگران میں سے بہت سی ایسی ہیں جنہوں نے مقابلوں میں حصہ لیا۔اب یہ پہلو خاص طور پر توجہ کے لائق ہے کہ بظاہر اس سے توحید ٹوٹتی ہے لیکن جس مقصد کی خاطر میں نے یہ سلسلہ شروع کیا وہ تو حید کو توڑنے کے لئے نہیں تو حید کے قیام کی خاطر کیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ مختلف قوموں کو احمدیت کی طرف یا حقیقی (دین) کی طرف بلاتے ہیں پھر اگر ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ان کی وہ تربیت نہ کریں جو روایتا ایک سوسال سے زائد عرصے سے آپ کی ہو رہی ہے تو یہ بھی تو حید کے منافی ہے۔آپ اور رنگ کے ہوں گے وہ اور رنگ کے بنیں گے۔آپ دونوں کی روایات ایک نہیں ہوں گی۔آپ کو جو خدا تعالیٰ نے سعادت بخشی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے ( رفقاء) سے تربیت پائی یعنی آپ میں اگر چہ وہ ( رفقاء ) تو موجود نہیں مگر بھاری اکثریت آج جو میرے سامنے ہے وہ ایسے احمدیوں پر مشتمل ہے جو پاکستان سے تعلق رکھا کرتے تھے یا پاکستان واپس جانے کا خوف دل میں رکھتے ہیں مگر کسی نہ کسی پہلو سے ان کا تعلق پاکستان سے نہ ہو ہندوستان سے ہو، ہندوستان سے نہ ہو بنگلہ دیش سے ہومگر ہے انہی لوگوں سے جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ظاہر ہوئے تھے اور آپ نے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو از سر نو اپنے پاک نمونے کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ان ( رفقاء) کے تربیت یافتہ خاندانوں سے آپ کا تعلق ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ ان سے کتنی دور نکل آئے ہیں۔اگر ان پہلی نسلوں سے آپ کا توحید کے اخلاق کے معاملے میں بھی تعلق کٹ گیا تو ایک یہ بھی رخنہ ہے جو توحید میں پڑچکا ہے۔یعنی آج سے سو سال پہلے یا پچاس سال پہلے خود آپ لوگوں کے جو بزرگ تھے، انہوں نے کیا کیا اعلیٰ اقدار ، اخلاق اور ایمان اور عمل میں حاصل کی تھیں۔ان اعلیٰ اقدار سے اگر آپ جو اُن کی نسل سے ہیں، آپ کا تعلق ٹوٹ گیا ہے تو یہ تو حید منقطع ہونے کا ایک دوسرا نام ہے۔توحید صرف آسمان پر قائم نہیں تو حید قوموں میں قائم ہے اور ہر فرد میں قائم ہوتی ہے۔انسان کے تعلقات میں قائم ہوتی ہے اور خاندانوں کے نسلی تعلق میں بھی قائم ہوتی ہے۔توحید کا ایک مضمون یہ ہے کہ پہلے لوگوں نے توحید کا جیسا حق ادا کیا تھا اگر گلے لوگوں نے وہ حق ادا نہ کیا فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ تو یہی وہ لوگ ہیں جو فسق و فجور میں مبتلا ہیں اور قرآن کریم نے لفظ فاسق کو تو حید توڑنے والوں کیلئے استعمال کیا ہے۔اب بہت سی آیات ہیں جن کو پیش کیا جاسکتا ہے مگر ان سے پھر آگے تفسیری مضمون چل پڑیں گے۔اسی