مشعل راہ جلد سوم — Page 51
51 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صداقت کا اعلان کرتار ہے۔یہ عجیب محبت ہے۔عجیب تقاضے ہیں اس محبت کے۔ہمیں تو اس محبت کی کوئی سمجھ نہیں آتی۔ہم تو اس محبت سے کلیہ نا آشنا ہیں۔ہم تو یہ جانتے ہیں کہ اگر کسی سے محبت ہو تو دشمن بھی اس کی تعریف کرے تو دل اس دشمن پر فدا ہونے لگتا ہے۔ہم تو صرف اس محبت سے واقف ہیں کہ اگر معاند سے معاند انسان بھی کسی کے محبوب کی تعریف کرنے لگ جائے تو دل اس پر نچھاور ہونے لگتا ہے اور اسے معاف کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔آپ نے دیکھا نہیں کہ جب کوئی ماؤں سے معافی مانگنا چاہے تو بچوں پر نثار ہوا کرتا ہے۔ان کے بچوں کو دعائیں دیتے ہیں فقیر۔جانتے ہیں کہ ماں بچے سے سچی محبت کرتی ہے۔اگر ہم نے اس کے بچے سے پیار کا اظہار کیا تو ماں کی منافرت پر ہماری یہ بچوں والی محبت غالب ہو جائے گی۔کیونکہ ماں حقیقتاً اپنے بچے سے سچا پیار کرتی ہے۔جو سچا پیار کرنے والا ہو وہ دوسرے کے پیار سے جلتا نہیں ہے۔دوسرے کے پیارے سے دشمنی محسوس نہیں کرتا۔دوسرے کے پیار کے نتیجے میں اپنی دشمنیاں بھلا دیا کرتا ہے۔پس ہم تو صرف اس محبت سے آشنا ہیں۔اس لئے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے اگر ہمیں سچی محبت ہے، اگر سچا پیار ہے تو اس کے نتیجے میں ہماری تو یہ کیفیت ہے کہ ان کو آتا ہے پیار پر غصہ ہم کو غصے پر پیار آتا ہے وہ اس بات پر نالاں ہیں، اس بات پر شکوہ کر رہے ہیں ، ناراض ہیں ہم سے ، معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ، کہتے ہیں قتل کردوان کو کہ محمد مصطفیٰ " کا نام محبت سے لے رہے ہیں۔اس پیار پر ان کو غصہ آ رہا ہے کہ خدا کی خاطر یہ لوگ ( بیوت الذکر ) بنارہے ہیں۔اپنے دل کی کیفیت یہ ہے کہ ہم کو غصے پہ پیار آتا ہے۔اس غصے کو ہم پیار کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ بیچارے جاہل لوگ، نا سمجھ ، نافہم بظاہر جو کچھ بھی غلط کر رہے ہوں، دل میں یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر یہ کیا ہے۔اس وجہ سے ہمیں ان پہ پیار آتا ہے۔اسی وجہ سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا وہ شعر یاد آ جاتا ہے کہ اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کاخر کنند دعوى پیمبرم