مشعل راہ جلد سوم — Page 544
مشعل راه جلد سوم 544 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی ہیں جن کو سمجھے بغیر آپ یگانگت کا مطلب سمجھ سکتے ہی نہیں اور وحدت کا کوئی معنی آپ کے ذہن میں ابھر نہیں سکتا جب تک اپنی ذات کے حوالے سے اپنے اندر کے وجود کے حوالے سے اور اس وجود کے باہر کے تعلق کے حوالے سے آپ وحدت کو نہ سمجھیں۔اب یہی بات جو میں نے کہی ہے اس کو کچھ مزید تفصیل سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔مثلاً ایک شخص ہے اس کو کوئی شخص پسند نہیں ہے اگر وہ اس کے گھر ملنے جاتا ہے اگر وہ ہنس کر خوش ہو کے کہتا ہے بہت مدت کے بعد ملاقات ہوئی آؤ جی یار گلے تو لگو کہاں غائب رہے۔جب وہ گھر آتا ہے تو اُس پر واری واری جاتا ہے۔اس کو حسنِ اخلاق نہیں کہا جاتا۔یہ تو حید کے منافی بات ہے۔اگر اُس سے کوئی دشمنی ہے اور دوری ہے تو ضبط کا نام تو حید ہے۔پھر سب سے پہلے ضبط کرے اور وہ بات ظاہر نہ کرے جو دل میں نہ ہو لیکن اس سے بڑھ کر تو حید اس سے اعلیٰ درجے کا مضمون یہ رکھتی ہے کہ توحید کے نتیجے میں انسان اپنے بھائی سے جو دور ہٹا ہوا ہے وہ قریب ہونے کی کوشش کرے۔اپنی نفرتوں کو محبتوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے۔اپنے غصے کو مغفرت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے۔پھر جب اُس سے ملتا ہے اُس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ایسی ہوگی جو تو حید کی علامت ہوگی۔ایک طمانیت ہوگی گویا اُس کا چہرہ یہ کہہ رہا ہوگا کہ میرے دل میں جو بغض تھے وہ تو میں دُور کر بیٹھا اور اللہ کی خاطر انسان کو انسان سے ملانے کے لئے تا کہ خدا کی تو حید آسمان پر نہ رہے بلکہ دنیا میں بھی جاری ہو اس غرض سے میں نے اپنے غصے تم سے دور کر لئے ہیں آگے تم جو چاہو کرتے پھرو۔ایسی صورت میں اُس کی مسکراہٹ منافقت کی مسکراہٹ نہیں ہوگی۔فی الحقیقت وہ اُس کا بہی خواہ ہوگا، چاہنے والا ہو گا ، اس کی خیریت اُس کے دل میں ہوگی اور پھر وہ جب مصافحہ کرتا ہے اور شوق سے السلام علیکم کہتا ہے اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔تو ایک ہی معمولی سی بات ہے جو انسان روز مرہ اپنے تجربے میں دیکھتا ہے ہزاروں بار ایک سال میں ایسے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے جن سے دل پھٹے ہوئے ہیں اور دور ہیں مگر کتنے ہم میں ہیں جو پھٹے ہوئے دلوں کے باوجود اپنے چہرے سے یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اُن کے ساتھ ایک ہو چکے ہیں۔کرتے ہیں مگر جھوٹ کرتے ہیں۔پس اخلاق کے نام پر چہروں کی اداؤں میں بھی جھوٹ نہیں ہونا چاہیے۔آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کا بیروہ کردار ہے جو اتنا نمایاں تھا کہ جب انسان انسانی اخلاق کی تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو جس باریکی سے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات میں تو حید جاری کی ہے اس کی اور کوئی مثال کہیں دکھائی نہیں دیتی۔انبیاء کی تاریخ میں ساری تاریخ ہی ان کی توحید سے تعلق رکھنے والی تاریخ ہوا کرتی ہے مگر اتنے چمکتے ہوئے، ایسے درخشاں، ایسے اعلیٰ نمونے آپ کو دکھائی نہیں دیں گے جو خدا تعالیٰ کے نور کا