مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 50 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 50

مشعل راه جلد سوم 50 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کاخر کنند دعوى حب انوية حضرت اقدس مسیح موعود کو جب تکلیفیں پہنچائی گئیں اور انتہا کر دی گئی ایذاء رسانی کی اور دکھ پہنچانے کی۔ہر قسم کی ، ہر نوعیت کی جذباتی جسمانی جو تکلیف بھی دشمن نے سوچی وہ آپ کو پہنچانے میں کمی نہ کی ،اس وقت اسی انتہائی دکھے ہوئے حال میں معلوم ہوتا ہے، آپ نے یہ شعر کہا ہے۔دل جب دکھ سے بھر گیا تھا، جب چھلکنے کو تیار تھا، یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت جب انسان کے منہ سے بے اختیار بددعا نکل جاتی ہے، اس وقت ایک غالب ہاتھ نے ان جذبات کو روک دیا ہے اور آپ نے اپنے رب کے حضور یہ عرض کیا اور اپنے دل کو نصیحت کی کہ ے اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کاخر کنند دعوی م پیمبرم کہ یہ تو خیال کر کہ جس آقا کی محبت میں تو سرشار ہے، جس کے لئے تو سب کچھ فدا کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے یہ اسی آقا کی محبت کا دعویٰ کرنے والی قوم ہے۔اس آقا کی محبت کے صدقے ان کو معاف کر دے۔اس آقا کی رحمت کے صدقے ان سے حسن سلوک فرما اور اس کے سوا ان کے لئے کسی بری بات کو کسی گوشہ میں جگہ دینے کا دھیان نہ کر کیونکہ تو محمد مصطفی " کے قدموں کا شار دل ہے جس میں رحمت کے سوا اور کوئی جذبہ نہیں پنپنا چاہیے۔یہ وہ نصیحت ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود نے اپنے دل کو کی اور اس کے نتیجے میں ایک دعا آپ کے دل سے نکلی۔اس دعا کو ہر احمدی کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ دو مختلف ، متضاد دعویداران محبت آج دنیا میں پیدا ہو چکے ہیں۔ایک وہ ہیں جو حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے ، اس محبت کے نتیجے میں ، اپنی دانست میں اتنا بڑھے ہوئے ہیں کہ یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لے۔یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ حضرت محمد مصطفیٰ " کے نام کو بلند کرتے ہوئے کوئی انسان دنیا میں ( بیوت الذکر ) بنائے۔یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کو پھیلانے کے لئے تمام دنیا میں کوئی انسان دیوانوں کی طرح پھرتا چلا جائے اور سب کچھ شمار کرتا ہوا حضور