مشعل راہ جلد سوم — Page 512
مشعل راه جلد سوم 512 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی بہتر احسان کے ساتھ آپ نے ادا کرنا ہے۔آپ اس قوم میں آئے نہتے ہو کر، بھکاری بن کر، بے سروسامان یہاں پہنچے انہوں نے دنیا کے لحاظ سے آپ کو پناہ دی، آپ کی ضرورتیں پوری کیں لیکن یا درکھیں آپ محسن اعظم کے غلام ہیں۔آپ زیرا حسان رہنے کے لئے نہیں بنائے گئے۔آپ نے ہر احسان کا بہتر بدلہ لازماً ادا کرنا ہے۔پس اس قوم کی پناہیں بن جائیں ، ان کومحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلعوں میں پناہ دیں۔حسن محمد کی دیوار میں ان کے گرد کھڑی کر دیں اور ان کو تمام دنیا کی بداخلاقیوں سے نجات بخشیں۔تب یہ رویا بڑی شان کے ساتھ پوری ہوگی جس میں حضرت مصلح موعود نے ۱۹۴۵ء میں دیکھا تھا کہ ہٹلر احمدی ہو گیا ہے۔ہٹلر ضرور احمدی ہوگا۔کوئی دنیا کی تقدیر اس فیصلے کو اب نہیں بدل سکتی۔آپ کے ذریعے ہو، میں یہ چاہتا ہوں۔آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔میں اپنی آنکھوں سے دیکھوں کہ خدا نے آپ کو یہ اعزاز بخشا ہے۔عصمت کی حفاظت دوسرا خصوصی پیغام جو اس رویا میں دیا گیا ہے وہ عصمت کی حفاظت کا پیغام ہے۔ان قوموں میں جنسی بے راہ روی اس تیزی سے راہ پارہی ہے کہ اب تو راہوں کی ضرورت نہیں اب تو سیلاب بن گیا ہے۔سیلاب تو رستوں کی تلاش نہیں کیا کرتا وہ بند توڑ کر رستے بنا لیا کرتا ہے۔آج جنسی بے راہ روی کی راہ سیلاب کی طرح ان قوموں میں پھیل گئی ہے۔کوئی گھر کی دیوار اتنی طاقتور نہیں کہ اس سیلاب سے اپنے رہنے والوں کو بچا سکے۔کسی قلعے کی دیوار ایسی نہیں جو اس سیلاب کی راہ میں روک بن سکے۔آپ نے اس پہلو سے جیسا کہ رویا میں پیغام دیا گیا ہے ان کو آپ نے پاک باطن اور پاک سیرت بنانا ہے۔اور یہ تب ممکن ہے کہ اگر آپ ایسا ہوں۔اگر آپ کی عورتیں ان کی طرح معاشرے کے نام پر اور کلچر کے نام پر بے حیائیاں شروع کر دیں۔ویسے لباس پہنے لگیں، ویسے لباس اتارنے لگیں ، اپنی زینت کو نمائش کے طور پر ان کو دکھاتی پھریں، اگر ان کی عورتوں کو بے راہ روی سے بچانے کے لئے ایک پاک نمونہ نہ دکھائیں اور ان کے نمونے کے پیچھے چل پڑیں تو پھر کیسے یہ انقلاب بر پا ہوگا۔پھر ( مومن ) عورت کی عزت ان کے ہاتھوں محفوظ نہیں رہ سکتی۔مردوں نے بھی ایک عظیم کردار ادا کرنا ہے۔یہ ممکن نہیں ہے کہ مردوں کو کھلی چھٹی ہو۔وہ جو چاہیں باہر کرتے پھریں اور گھر میں آکر یہ توقع رکھیں کہ ان کی بیوی نیک سیرت باعصمت بیوی ہو۔ان کی بچیاں عصمت والیاں ہوں اور پاک باز ہوں اور خود ان کو چھٹی ہو جو چاہے کریں۔جومرد آزاد منش ہیں جو دنیا میں