مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 504 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 504

مشعل راه جلد سوم 504 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی تھا اس پیشگوئی میں یا اس رویا میں جو پیشگوئی دکھائی گئی تھی اس میں اس عاجز کو بھی ایک بچے کی صورت میں دکھایا گیا تھا جسے حضرت مصلح موعود نے اپنی گود میں اٹھایا ہوا ہے اور روس کی سرزمین پر قدم رکھ رہے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ وہاں خدا کے فضل سے اندر اندر احمدیت پھیل چکی ہے۔اب جو آثار ظاہر ہورہے ہیں ان سے یقین ہو جاتا ہے کہ اب وہ وقت آچکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ روس کی سرزمین احمد بیت کو قبول کرنے کے لئے ذہنی اور قلبی اور روحانی لحاظ سے بہت تیزی کے ساتھ تیار ہو رہی ہے۔پس دعاؤں میں اس سرزمین کو یا درکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے ان خدمتوں کی جو بارگاہ الہی میں مقبول ہوں اور ان فضلوں کو نازل ہوتا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں جو مقدر تو ہیں مگر ہماری یہ تمنا ہے کہ ہمارے دور میں وہ فضل اتریں اور ہم اپنی آنکھوں سے ان کو پورا ہوتا دیکھیں۔جرمنی میں روحانی انقلاب کی پیشگوئی ایک اور پیشگوئی حضرت مصلح موعود کی جس کا تعلق پھر اسی دور سے ہے اور خصوصیت کے ساتھ جرمنی سے ہے۔آج میں وہ پیشگوئی آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں۔اس میں ہمارے لئے بہت سے پیغامات ہیں، بہت سی حکمت کی باتیں ہیں جنہیں سمجھ کر ہمیں اس ملک میں اپنا لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ۱۹۴۵ء کی اپنی ایک رؤیا بیان کی جو میں آپ ہی کے الفاظ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں:۔گیارہ سال ہوئے یعنی یہ ۱۹۵۶ء میں آپ نے بیان کی ہے۔گیارہ سال ہوئے۔سن ۴۵ ء کی بات ہے میں نے رویا میں دیکھا کہ ہٹلر ہمارے گھر میں آیا ہے۔پہلے مجھے پتہ لگا کہ ہٹلر قادیان میں آیا ہوا ہے اور ( بیت) اقصیٰ میں گیا ہے۔میں نے اس کی طرف ایک آدمی دوڑایا اور کہا کہ اسے بلالا ؤ۔چنانچہ وہ اسے بلالا یا۔میں نے اسے ایک چارپائی پر بٹھا دیا اور اس کے سامنے میں خود بیٹھ گیا۔میں نے دیکھا کہ وہ بے تکلف وہاں بیٹھا تھا اور ہمارے گھر کی مستورات بھی اس کے سامنے بیٹھی تھیں۔میں حیران تھا کہ ہماری مستورات نے اس سے پردہ کیوں نہیں کیا۔پھر مجھے خیال آیا کہ ہٹلر چونکہ احمدی ہو گیا ہے اور میرابیٹا بن گیا ہے اس لئے میرے گھر کی مستورات اس سے پردہ نہیں کرتیں۔پھر میں نے اسے دعا دی اور کہا کہ اے خدا! تو اس کی حفاظت کر اور اسے ترقی دے۔پھر میں نے کہا وقت ہو گیا ہے میں اسے چھوڑ آؤں۔چنانچہ میں اسے چھوڑنے کے لئے گیا۔میں اس کے ساتھ جارہا تھا اور یہ خیال کر رہا تھا کہ میں نے تو اس کی ترقی کے