مشعل راہ جلد سوم — Page 471
471 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ہے۔ہماری نمازوں میں ابھی کئی قسم کے خلا ہیں جو بلند تر منازل سے تعلق رکھنے والے خلا ہیں۔ان کا میں تفصیل سے ذکر کر چکا ہوں۔لیکن اب میں آپ کو اس بنیادی کمزوری کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ ہمارے اندر آج کی نسلوں میں بھی بہت سے بچے ایسے ہیں جن کو پانچ وقت نماز پڑھنے کی عادت نہیں ہے۔بہت سے بوڑھے ایسے ہیں جن کو پانچ وقت نماز پڑھنے کی عادت نہیں ہے اور یہ بات ہمیں روز مرہ نظر آنی چاہیے اور ہمیں اس سے بے چین ہو جانا چاہیے تنظیمیں کیوں اس سے بے چین نہیں ہوتیں۔تنظیمیں کیوں یہ کمزوری نہیں دیکھتیں اور کیوں خصوصیت کے ساتھ ان باتوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتیں۔صرف نماز پڑھنا کافی نہیں، نماز ترجمے کے ساتھ پڑھنا بہت ضروری ہے اور نماز کا ترجمہ ہر احمدی کو آنا چاہیے۔خواہ وہ بچہ ہو ، جوان ہو یا بوڑھا۔مرد ہو یا عورت۔ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ نماز کاترجمہ جانتا ہو اور اس حد تک یہ ترجمہ رواں ہو کہ جب وہ نماز پڑھے تو سمجھ کر نماز پڑھے۔عبادات کے مضمون میں تو بہت سی وسیع باتیں ہیں۔بہت سی باتیں ہیں جو اپنے اندر پھر اور بہت سی منازل رکھتی ہیں لیکن سب سے بنیادی بات یہی ہے کہ ہم اپنی جماعت کو مکمل طور پر نماز پر قائم کر دیں۔کسی اور نیکی کی اتنی تلقین قرآن کریم میں آپ کو نہیں ملے گی جتنی قیام عبادت کی تلقین ہے۔قیام صلوة کی تلقین ہے اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کی تلقین بھی ہمیشہ اس کے ساتھ وابستہ کی گئی ہے۔پس قرآن کریم کی تعلیم کی روح یہی ہے کہ ہم اپنی عبادات کو کھڑا کر دیں اور اپنے پاؤں پر مضبوطی کے ساتھ ان کو اس طرح مستحکم کر دیں کہ کوئی ابتلاء کوئی زلزلہ کوئی مشکل ہماری نمازوں کو گرا نہ سکے۔اس کے لئے پہلا بنیادی قدم یہی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص نماز با ترجمہ جانتا ہو اور نماز پانچ وقت پڑھنے کا عادی ہو اور دوسری چیز اس کے ساتھ ملانے والی یہ ضروری ہے کہ صبح تلاوت کی عادت ڈالیں ہر شخص جو نماز پڑھتا ہے اس کو یہ عادت پڑ جائے کہ کچھ نہ کچھ تلاوت ضرور کرے۔یہ بنیاد اگر قائم ہو جائے اس کے اوپر پھر عظیم الشان عبادات کی عمارتیں قائم ہوسکتی ہیں۔منازل نئی سے نئی بن سکتی ہیں۔عبادتوں کو نئی رفعتیں حاصل ہو سکتی ہیں مگر یہ بنیاد نہ ہو تو اُوپر کی منزلیں بن ہی نہیں سکتیں۔اس لئے خدام الاحمدیہ انصار اللہ اور بجنات کو اپنے آئندہ کے پروگراموں میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کو دینی چاہیے کہ ان کی مجالس کے اندر ایک بھی فرد نہ رہے جو نماز کا ترجمہ نہ جانتا ہو اور پنج وقتہ نماز پر قائم نہ ہو۔باقی ساری باتیں انشاء اللہ رفتہ رفتہ سکھائی جائیں گی۔ذیلی تنظیموں کے لئے لائحہ عمل میرا پروگرام یہ ہے کہ تمام مجالس پر اس پہلو سے نظر رکھوں اور ان کی رپورٹوں کو سر دست مختصر بنادوں۔ان سے یہ توقع رکھوں کہ آپ لمبی تفصیلی رپورٹیں مجھے نہ کریں جن سے میں خود براہ راست گذر نہ سکوں جبکہ