مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 470 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 470

مشعل راه جلد سوم 470 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ فیل ہو جائیں تو زندگی سے بیزار ہو جاتے ہیں۔زندگی کی کوئی مراد پوری نہ ہو تو ان کا سارا فلسفہ حیات ایک زلزلے میں مبتلا ہو جاتا ہے، وہ سوچتے ہیں، پتہ نہیں خدا بھی ہے کہ نہیں۔اُن کی چھوٹی سی کائنات تنکوں کی بنی ہوئی ہوتی ہے اور معمولی سا زلزلہ بھی ان کی خاک اڑا دیتا ہے۔اس لئے وہ قو میں جنہوں نے دنیا میں بہت بڑے بڑے کام کرنے ہیں۔عظیم الشان مقاصد کو حاصل کرنا ہے اور عظیم الشان ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے۔جن کا مشکلات کا دور چند سالوں سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ صدیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ہر مشکل کو انہوں نے سر کرنا ہے۔ہر مصیبت کا مردانگی کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ہر زور آور دشمن سے ٹکر لینی ہے اور اس کو نا کام اور نامراد کر کے دکھانا ہے۔ایسی قوموں کی اولادیں اگر بچپن ہی سے عزم کی تعلیم نہ پائیں تو آئندہ نسلیں پھر اس عظیم الشان کام کو سرانجام نہیں دے سکیں گی۔اس لئے بہت ہی ضرورت ہے کہ جہاں نرم کلام بچے پیدا کریں۔جہاں نرم دل بچے پیدا کریں۔جہاں نرم خو اولاد پیدا کریں جو دوسروں کی ادنی سی تکلیف سے بھی بے چین اور بے قرار ہو جائے اور ان کے دل کسی دوسرے دل کے غم سے پچھلنا شروع ہو جائیں ، اس کے باوجود اس اولا د کو عزم کا پہاڑ بنادیں اور بلند ہمتوں کا ایک ایسا عظیم الشان نمونہ بنادیں کہ جس کے نتیجے میں قومیں ان سے سبق حاصل کریں۔یہ وہ پانچ بنیادی اخلاق ہیں جو میں سمجھتا ہوں کہ ہماری تنظیموں کو خصوصیت کے ساتھ اپنے تربیتی پروگرام میں پیش نظر رکھنے چاہئیں۔ان پر اگر وہ اپنے سارے منصوبوں کی بناء ڈال دیں اور سب سے زیادہ توجہ ان اخلاق کی طرف کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کا فائدہ آئندہ سو سال ہی نہیں بلکہ سینکڑوں سال تک بنی نوع انسان کو پہنچتارہے گا۔کیونکہ آج کی جماعت احمد یہ اگران پانچ اخلاق پر قائم ہو جائے اور مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جائے اور ان کی اولادوں کے متعلق بھی یہ یقین ہو جائے کہ یہ بھی آئندہ انہیں اخلاق کی نگران اور محافظ بنی رہیں گی اور ان اخلاق کی روشنی دوسروں تک پھیلاتی رہیں گی اور پہنچاتی رہیں گی تو پھر میں یقین رکھتا ہوں کہ ہم امن کی حالت میں اپنی جان دے سکتے ہیں۔سکون کے ساتھ اپنی جان جان آفرین کے سپر د کر سکتے ہیں اور یقین رکھ سکتے ہیں کہ جو عظیم الشان کام ہمارے سپرد کئے تھے۔ہم نے جہاں تک ہمیں توفیق ملی ، ان کو سرانجام دیا۔نماز کا ترجمہ ہر احمدی کو آنا چاہیے خواہ وہ بچہ ہو ، جوان ہو یا بوڑھا سرا پہلو مختصر عبادات کا پہلو ہے۔اس سلسلے میں میں بارہا جماعت کو پہلے بھی متوجہ کر چکا ہوں کہ ابتدائی چیزوں کی طرف بہت ہی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ان میں سب سے ابتدائی اور سب سے اہم نماز