مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 467 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 467

467 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم ایسی غیر مرئی مخلوق ہے جو آکر یہ کام کر جاتی ہے۔انسانوں کو تو زیب نہیں دیتا کہ اس طرح بے وجہ خدا کی ان نعمتوں کو ضائع کریں تو بار ہا یہ دیکھا یہ تربیت کرنی پڑتی ہے لیکن صبر کے ساتھ۔بدتمیزی کے ساتھ نہیں اور یہ جو دو باتیں ہیں یہ اکٹھی چلیں گی۔یعنی حوصلے کی تعلیم اور نقصان سے بچنے کا رجحان۔کسی قسم کا قومی نقصان نہ ہو اس کے نتیجے میں اندرونی طور پر بھی آپ کی ذات کو ، آپ کے خاندان کو فوائد پہنچیں گے اور بڑے ہو کر تو اس کے بہت ہی عظیم الشان نتائج نکلتے ہیں۔وہ لوگ جن کو چھوٹے چھوٹے نقصانوں کی پرواہ نہیں ہوتی جب وہ تجارتیں کرتے ہیں تو اپنی طرف سے وہ حوصلہ دکھا رہے ہوتے ہیں کہ اچھا یہ ہو گیا، کوئی فرق نہیں پڑتا۔اچھا وہ نقصان ہو گیا کوئی فرق نہیں پڑتا ہم اور آگے کما لیں گے۔یہ جہالت کی باتیں ہیں۔اچھے تاجر وہی ہوتے ہیں جو چھوٹے سے چھوٹا نقصان بھی برداشت نہ کریں اور حوصلے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اپنے نقصان کو آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھیں اور روکنے کی کوشش نہ کریں۔غریب کی ہمدردی اور دُکھ دور کرنے کی عادت بچپن سے ہی پیدا کریں چوتھی بات غریب کی ہمدردی اور دُکھ دُور کرنے کی عادت ہے۔یہ بھی بچپن سے ہی پیدا کرنا چاہیے۔جن بچوں کو نرم مزاج مائیں غریب کی ہمدردی کی باتیں سناتی ہیں اور غریب کی ہمدردی کا رجحان اُن کی طبیعتوں میں پیدا کرتی ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مستقبل میں ایک عظیم الشان قوم پیدا کر رہی ہوتی ہیں جو خَيْرَ اُمَّةٍ بننے کی اہل جاتی ہیں لیکن وہ مائیں جو خود غرضانہ رویہ رکھتی ہیں اور اپنے بچوں کو اُن کے اپنے دکھوں کا احساس تو دلاتی رہتی ہیں غیر کے دُکھ کا احساس نہیں دلاتیں۔وہ ایک خود غرضانہ قوم پیدا کرتی ہیں۔جولوگوں کے لئے مصیبت بن جاتی ہے۔اس لئے انسانی ہمدردی پیدا کرنا نہ صرف نہایت ضروری ہے بلکہ اس کے بغیر آپ اپنے اس اعلیٰ مقصد کو پا نہیں سکتے جس کے لئے آپ کو پیدا کیا گیا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( سورة آل عمران : ۱۱۱) تم دنیا کی بہترین امت ہو جس کو خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے فوائد کے لئے پیدا فرمایا ہے۔اس لئے ہم اپنی زندگی کا قومی مقصد کھو دیں گے اگر بچپن ہی سے اپنی اولا د کولوگوں کی ہمدردی کی طرف متوجہ نہ کریں اور عملاً اُن سے ایسے کام نہ لیں یا اُن کو ایسے کام نہ سکھائیں جس کے نتیجے میں غریب کی ہمدردی اُن کے دل میں پیدا ہو اور اُس کی لذت یابی بچپن ہی سے شروع ہو جاتی ہے۔لذت یابی سے مراد میری یہ ہے کہ اگر کسی بچے سے کوئی ایسا کام کر وایا جائے جس سے کسی کا دُکھ دور ہو تو اس کو ایک لذت محسوس ہوگی اگر محض زبانی بتایا جائے تو وہ لذت