مشعل راہ جلد سوم — Page 464
464 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم کے اندر ڈھلنے کی طاقت نہ ہو تو پھر کیسا بڑا صناع ہی کیوں نہ ہو، وہ اس مٹی کو خوبصورت شکلوں میں تبدیل نہیں کر سکتا۔پس اس پہلو سے کلامی، ادب و احترام کے ساتھ ایک دوسرے سے سلوک کرنا یہ بہت ہی ضروری ہے۔بڑے بڑے خطرناک جھگڑے اس صورتحال کی طرف توجہ نہ دینے کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اور چونکہ مجھ تک ساری دُنیا سے مختلف نزاع کبھی بالواسطہ کبھی بلا واسطہ پہنچتے رہتے ہیں۔اس وقت تک آئندہ بڑے ہو کر قوم میں ان کے کردار کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتے اور ان کی بدخلقیاں بعض نہایت ہی خطرناک فساد پیدا کر سکتی ہے۔جن کے نتیجے میں دُکھ پھیل سکتے ہیں۔جماعتیں بٹ سکتی ہیں۔منافقتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔سلسلہ سے انحراف کے واقعات ہو سکتے ہیں کیونکہ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن کو لوگ معمولی سمجھتے ہیں لیکن جن کے اوپر آئندہ قوموں کی تعمیر ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں بہت بڑے بڑے واقعات رونما ہو جاتے ہیں۔وسعت حوصلہ بچپن ہی سے اپنی اولا د کو سکھانا چاہیے تیسری چیز وسعت حوصلہ ہے۔بچپن ہی سے اپنی اولا د کو یہ سکھانا چاہیے کہ اگر تمہیں کسی نے تھوڑی سی کوئی بات کہی ہے یا تمہارا کچھ نقصان ہو گیا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔اپنا حوصلہ بلند رکھو اور حو صلے کی یہ تعلیم بھی زبان سے نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر اپنے عمل سے دی جاتی ہے بعض بچوں سے نقصان ہو جاتے ہیں۔گھر کا کوئی برتن ٹوٹ گیا۔سیاہی کی کوئی دوات گر گئی۔کھانا کھاتے ہوئے پانی کا گلاس اُلٹ گیا اور ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر میں نے دیکھا ہے کہ بعض ماں باپ برافروختہ ہو کر بچوں کے اوپر برس پڑتے ہیں، ان کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔چیڑ میں مارتے ہیں اور کئی طرح کی سزائیں دیتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ جن قوموں میں یا جن ملکوں میں ابھی تک اُن کا ایک طبقہ یہ توفیق رکھتا ہے کہ وہ نوکر رکھے، وہاں نوکروں سے بدسلوکیاں ہورہی ہوں، ان گھروں میں جہاں بچوں سے بدسلوکیاں ہورہی ہوں وہاں آئندہ قوم میں بڑا حوصلہ پیدا نہیں ہوسکتا۔جب ایک بچے نے حضرت مسیح موعود کا قیمتی مقالہ جلا دیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بچوں کو جو تربیت کی وہ محض کلام کے ذریعے نہیں کی بلکہ اعلیٰ اخلاق کے اظہار کے ذریعے کی ہے۔حضرت مصلح موعود جب بچے تھے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام