مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 463 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 463

مشعل راه جلد سوم 463 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی بات ہے۔ابتدائی چیز ہے لیکن جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے ، وہ سارے جھگڑے جو جماعت کے اندر نجی طور پر پیدا ہوتے ہیں یا ایک دوسرے سے تعلقات میں پیدا ہوتے ہیں ان میں جھوٹ کے بعد سب بڑا دخل اس بات کا ہے کہ بعض لوگوں کو نرم خوئی کے ساتھ کلام کرنا نہیں آتا۔ان کی زبان میں درشتگی پائی جاتی ہے۔ان کی باتوں اور طرز میں تکلیف دینے کا ایک رجحان پایا جاتا ہے، جس سے بسا اوقات وہ باخبر ہی نہیں ہوتے۔جس طرح کانٹے دُکھ دیتے ہیں ان کو پتہ نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ روحانی طور پر سوکھ کے کانٹے بن جاتے ہیں اور ان کی روزمرہ کی باتیں چاروں طرف دُکھ بکھیر رہی ہوتی ہیں۔تکلیف دے رہی ہوتی ہیں اور ان کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ایسے اگر مرد ہوں تو ان کی عورتیں بیچاری ہمیشہ ظلموں کا نشانہ بنی رہتی ہیں اور اگر عورتیں ہوں تو مردوں کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔یہ بات بھی ایسی ہے جس کو بچپن سے ہی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔گھر میں بچے جب آپس میں ایک دوسرے سے کلام کرتے ہیں۔اگر وہ آپس میں ادب اور محبت سے کلام نہ کریں۔اگر چھوٹی چھوٹی بات پر تو تو میں میں اور جھگڑے شروع ہو جائیں تو آپ یقین جانئے کہ آپ ایک گندی نسل پیچھے چھوڑ کر جانے والے ہیں ایک ایسی نسل پیدا کر رہے ہیں جو آئندہ زمانوں میں قوم کو تکلیفوں اور دکھوں سے بھر دے گی اور آپ اس بات کے ذمہ دار ہیں ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچوں نے ایک دوسرے سے زیادتیاں کیں ،سختیاں کیں اور بدتمیزیاں کیں۔اور آپ نے ان کو ادب سکھانے کی طرف کوئی توجہ نہ کی اور یہی نہیں ایسے بچے پھر ماں باپ سے بھی بدتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔اور جن ماں باپ کے بچوں کی تعزیر کے لئے جلد ہاتھ اُٹھتے ہیں ان کے بچوں کے پھر اُن پر ہاتھ اٹھنے لگتے ہیں۔اس لئے روزمرہ کے حسن سلوک اور ادب کی طرف غیر معمولی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور یہ بھی گھروں میں اگر بچپن ہی میں تربیت دے دی جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی آسانی کے ساتھ یہ کام ہو سکتے ہیں لیکن جب یہ اخلاق زندگی کا جزو بن چکے ہوں ، جب ایسے بچے بڑے ہو جائیں تو پھر آپ دیکھیں گے کہ سکول میں جائیں تو کلاسوں میں یہ بچے بدتمیزی کے مظاہرے کرتے ،شور ڈالتے ، ایک دوسرے کو تکلیفیں پہنچاتے اور اساتذہ کے لئے ہمیشہ سر دردی بنے رہتے ہیں۔یہی بچے جب اطفال الاحمدیہ کے سپر دہوں یا لجنات کے سپر د بچیوں کے طور پر ہوں تو وہاں ایک مصیبت کھڑی کر دیتے ہیں۔ان بچوں کی تربیت کرنا بڑا مشکل کام ہے۔اور ہم نے جو تربیت کے بڑے بڑے کام کرنے ہیں وہ ہو ہی نہیں سکتے اگر ابتدائی طور پر یہ مادہ تیار نہ ہو۔مادہ تیار ہو تو پھر اس کے اوپر کام آپ کرنا چاہیں، جتنا اس کو سجانا چاہیں اتنا اس کو سجا سکتے ہیں لیکن وہ مٹی ہی نرم نہ ہو اور اس