مشعل راہ جلد سوم — Page 462
462 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم جھوٹ ہی ہے۔لیکن یہ ایک الگ بحث ہے۔مجھے تو اس وقت جماعت احمدیہ کے اندر دلچسپی ہے اور جماعت احمدیہ کے بچوں کے اوپر میں خصوصیت کے ساتھ نظر رکھتا ہوں اور میرے نزدیک جب تک بچپن سے بیچ کی عادت نہ ڈالی جائے ، بڑے ہو کر سچ کی عادت ڈالنا بہت مشکل کام ہو جاتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے اپنے بعض خطبات میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے سچ بولنا بھی مختلف درجات سے تعلق رکھتا ہے اور مختلف مراحل سے تعلق رکھتا ہے اور کم سچا اور زیادہ سچا اور اس سے زیادہ سچا اور اس سے زیادہ سچا۔اتنے بے شمار مراحل ہیں سچ کے بھی کہ ان کو طے کرنا بالآخر نبوت تک پہنچاتا ہے اور صدیق کے مرحلے سے آگے خدا تعالیٰ نے سچائی کا جو مقام تجویز فرمایا ہے۔اس کو نبوت کہا جاتا ہے ایسا سچا کہ جس کا کوئی پہلو بھی جھوٹ کی ملونی اپنے اندر نہ رکھتا ہولیکن یہ ہیں بڑے اور اُونچے اور بلند منصوبے جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے پیش کئے ہیں۔مَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِيْنَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (سورۃ النساء: 70) کتنے عظیم الشان اور بلند منصوبے ہیں لیکن ان کا آغاز سچ سے ہوتا ہے اور کوئی شخص صالح بھی نہیں بن سکتا جب تک وہ سچا نہ ہو۔اس لئے بہت ہی اہم بات ہے کہ ہم اپنے بچوں کو شروع ہی سے نرمی سے بھی اور سختی سے بھی بچ پر قائم کریں اور کسی قیمت پر بھی ان کے جھوٹے مذاق کو بھی برداشت نہ کریں۔یہ کام اگر مائیں کر لیں تو باقی مراحل جو ہیں، قوم کے لئے بہت ہی آسان ہو جائیں گے اور ایسے بچے جو بچے ہوں وہ اگر بعد میں لجنہ کی تنظیم کے سپرد کئے جائیں یا خدام الاحمدیہ کی تنظیم کے سپرد کئے جائیں۔ان سے وہ ہر قسم کا کام لے سکتے ہیں کیونکہ سچ کے بغیر وFiber فائیر میسر نہیں آتا۔وہ تانا بانانہیں ملتا جس کے ذریعے آپ بوجھ ڈال سکتے ہیں یا منصوبے بنا کر ان کو ان میں استعمال کر سکتے ہیں۔جھوٹی قو میں کمزور ہوتی ہیں ان کے اندر اعلیٰ قدریں برداشت کرنے کی طاقت ہی نہیں ہوا کرتی لیکن یہ ایک بڑا لمباتفصیلی مضمون ہے اس کو آپ فی الحال نظر انداز فرما ئیں اور یہ یقین رکھیں کہ سچ کے بغیر کسی اعلیٰ قدر کی کسی اعلیٰ منصوبے کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ میں بچپن سے ہی سچ کی عادت ڈالنا اور مضبوطی سے اپنی اولادوں کو سیچ پر قائم کرنا نہایت ضروری ہے اور جو بڑے ہو چکے ہیں۔ان پر اس پہلو سے نظر رکھنا اور ایسے پروگرام بنانا کہ بار بار خدام اور انصار اور بلجنات اس طرف متوجہ ہوتے رہیں کہ سچائی کی کتنی بڑی قیمت ہے اور اس وقت جماعت کو اور دنیا کو جماعت کی وساطت سے کتنی بڑی ضرورت ہے۔نرم اور پاک زبان کا استعمال تربیت کا دوسرا پہلو نرم اور پاک زبان استعمال کرنا اور ایک دوسرے کا ادب کرنا۔یہ بھی بظاہر چھوٹی سی