مشعل راہ جلد سوم — Page 431
431 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم تو ابھی اس تبدیلی کے آثار یورپ میں نمایاں نہیں تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے جو فراست عطا فرمائی تھی، یہ اس فراست کا کرشمہ تھا کہ آئندہ پیدا ہونے والے رجحانات کو آپ نے ایک سوسال پہلے مشاہدہ کیا اور اس مشاہدے کو یقینی اور قطعی سمجھتے ہوئے اس پر بناء کرتے ہوئے آپ نے دنیا کو یہ خوشخبری دی کہ خواہ تم مجھے دیوانہ سمجھو، ( دین حق) کی طرف میں یورپ کے مزاج کو آتا ہوا دیکھ رہا ہوں اور مجھے فتح ( دین حق ) کا وہ یوسف دکھائی دینے لگا ہے، اس کی خوشبو آ رہی ہے۔جیسے حضرت یعقوب کو اپنے پیارے یوسف کی خوشبو آئی تھی۔جیسے یعقوب کو اس کے بیٹوں نے دیوانہ کہا تھا اور کہا تھا تو تو یوسف کے عشق میں پاگل ہو چکا ہے اور ایسی فرضی باتیں سوچتا رہتا ہے جن کا کوئی وجود نہیں۔اسی طرح میں ( دین حق کی فتح کا دیوانہ ہو چکا ہوں۔لاکھ تم مجھے دیوانہ کہتے رہو، مگر مجھے تو اپنے یوسف کی خوشبو آنی شروع ہو گئی ہے۔یہ سو سال پہلے کی بات ہے آج تو وہ خوشبو اپنی مہک کے ساتھ بڑی نمایاں ہو چکی ہے اور ان نو جوانوں کا جن کا میں نے ذکر کیا ہے رجحان اپنے ماضی سے ہٹ کر کسی ایسے مستقبل کی طرف مائل ہوا ہے جس کی نشان دہی وہ ابھی تک نہیں کر سکے۔آج بھی ان کو معلوم نہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔کس طرف ان کا رخ ہے اور کون سا ایسا مقام ہے جس کی جانب بڑھنے سے ان کے دلوں کو اطمینان نصیب ہو سکتا ہے۔مگر حضرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آج سے سو سال پہلے اس مقام کی نشان دہی فرما دی۔آپ نے فرمایا کہ ان کا مزاج ( دین حق ) کے طرف مائل ہورہا ہے۔اب بظاہر آج بھی ( دین حق) کے خلاف غلط فہمیاں موجود ہیں اور بظاہر آج بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابہ کرام کے مقام کو یہ لوگ نہیں سمجھ رہے اور بعض اپنی بدنصیبی اور بدبختی کی وجہ سے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دشنام طرازی سے بھی باز نہیں آتے اور ایسے خبیثانہ لٹریچر جیسے سلمان رشدی نے لکھا اس کی تعریف میں بھی رطب اللسان دکھائی دیتے ہیں۔مگر اس کے با وجود یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ ان کا مزاج بالعموم ( دین حق ) کی طرف مائل ہو رہا ہے کیونکہ یہ زیادہ معقولیت اختیار کرتے چلے جارہے ہیں۔فرضی تصوف میں یقین رکھنے سے یہ انکار کر چکے ہیں اور جو بھی سچائی کی حقیقت ان پر روشن ہوئی اس کو قبول کرنے پر ان کے دل آمادہ ہیں۔پس غلط فہمیوں کو دور کرنا یہ آپ کا کام ہے۔یہ میرا کام ہے، یہ ہم سب کا مشترکہ کام ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہیں فرمایا کہ یہ (مومن) ہو رہے ہیں۔فرمایا: ان کا مزاج ( دین حق) کے قریب آ رہا ہے پس جہاں تک نبض شناسی کا تعلق ہے اگر قومی لحاظ سے آپ مغرب کے نوجوانوں کی نبض پر ہاتھ رکھیں تو یہ کہنے میں کوئی بھی باک محسوس