مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 426 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 426

426 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم میں خصوصیت کے ساتھ تعلیم دینے کی تعلیم دلانا یعنی ایجوکیشن کی انسٹرکشن جسے Bachelor Degree in Education غالباً کہا جاتا ہے یا جو بھی اسکا نام ہے۔مطلب یہ ہے کہ انکو استانیاں بنے کی ٹرینینگ دلوانا، خواہ انکو استانی بنانا ہو یا نہ بنانا ہو انکے لئے مفید ہو سکتا ہے۔اسی طرح لیڈی ڈاکٹر ز کی جماعت کو خدمت کے میدان میں بہت ضرورت ہے۔پھر کمپیوٹر سپیشلسٹ کی ضرورت ہے اور ٹائپسٹ کی ضرورت ہے اور یہ سارے کام عورتیں مردوں کے ملے جلے بغیر ، سوائے ڈاکٹری کے، باقی سارے کام عمدگی سے سرانجام دے سکتی ہیں۔پھر زبانوں کا ماہر بھی انکو بنایا جائے یعنی لٹریری (Literary) نقطہ نگاہ سے ، ادبی نقطہ نگاہ سے انکو زبانوں کا چوٹی کا ماہر بنانا چاہیے تا کہ یہ جماعت کی تصنیفی خدمات کر سکیں۔اس طرح اگر ہم سب اپنی آئندہ واقفین نسلوں کی نگہداشت کریں اور انکی پرورش کریں انکو بہترین واقف بنانے میں مل کر جماعتی لحاظ سے اور انفرادی لحاظ سے سعی کریں تو میں امید رکھتا ہوں کہ آئندہ صدی کے اوپر جماعت احمدیہ کی اس صدی کی نسلوں کا ایک ایسا احسان ہوگا کہ جسے وہ ہمیشہ جذ بہ تشکر اور دعاؤں کے ساتھ یاد کریں گے۔آخر پر یہ بتانا ضروری ہے کہ سب سے زیادہ زور تربیت میں دعا پر ہونا چاہیے۔ان بچوں کے لئے ہمیشہ دردمندانہ دعائیں کرنا اور ان بچوں کو دعا کرنا سکھانا اور دعا کرنے کی تربیت دینا تا کہ بچپن ہی سے یہ اپنے رب سے ایک ذاتی گہرا تعلق قائم کر لیں اور اس تعلق کے پھل کھانے شروع کر دیں۔جو بچہ دعا کے ذریعے اپنے رب کے احسانات کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے وہ بچپن ہی سے ایک ایسی روحانی شخصیت حاصل کر لیتا ہے جس کا مربی ہمیشہ خدا بنا رہتا ہے اور دن بدن اسکے اندر وہ تقدس پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے جوخدا کے بچے تعلق کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتا اور دنیا کی کوئی تعلیم اور کوئی تربیت وہ اندرونی تقدس انسان کو نہیں بخش سکتی جو خدا تعالیٰ کی معرفت اور اسکے پیار اسکی محبت کے نتیجے میں نصیب ہوتا ہے۔پس ان بچوں کی تربیت میں دعاؤں سے بہت زیادہ کام لیں۔خود انکے لئے دعا کریں اور انکو دعا کرنے والے بچے بنائیں۔میں امید رکھتا ہوں کہ ان ذرائع کو اختیار کر کے انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے سپرد کرنے سے پہلے پہلے ہی یہ بچے ہر قسم کے حسن سے آراستہ ہو چکے ہوں گے اور ایسے ماں باپ بڑی خوشی کے ساتھ اور کامل اطمینان کے ساتھ ایک ایسی قربانی خدا کے حضور پیش کر رہے ہوں گے جسے انہوں نے اپنی توفیق کے مطابق خوب سجا کر اور بنا کر خدا کے حضور پیش کیا ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان اعلیٰ تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین