مشعل راہ جلد سوم — Page 424
مشعل راه جلد سوم 424 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی سے زیادہ توجہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دلائی تھی اور جتنی دوری اس دنیا کے لوگوں کی آپ سے تھی اسکا ہزارواں حصہ بھی جماعت احمدیہ کے نوجوان آپ سے فاصلے پر نہیں کھڑے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامل طور پر معصوم تھے اور آپ خود اپنے اندر کچھ خرابیاں رکھتے ہیں۔جن سے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مخاطب تھے وہ تمام برائیوں کی آماجگاہ تھے۔مگر یہ نو جوان تو کئی پہلوؤں سے سلجھے ہوئے، منجھے ہوئے اور باہر کی دنیا کے جوانوں سے سینکڑوں گنا بہتر ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ آپ جب نصیحت کریں تو وہ بدکتے ہیں اور متنفر ہوتے ہیں اور آنحضرت جب نصیحت فرماتے تھے وہ آپ کے عاشق ہو جایا کرتے تھے۔دوسرے میں نے ان سے کہا کہ ایک آدھ شکایت تو ہر (مربی) کے متعلق، ہر ایسے شخص کے متعلق آہی جاتی ہے جو کسی کام پر مامور ہو۔ہر شخص کو وہ راضی نہیں کر سکتا۔کچھ لوگ ضرور ناراض ہو جایا کرتے ہیں لیکن ایک شخص کے متعلق شکایتوں کا تانتا لگ جائے تو اس پر غالب کا یہ شعر اطلاق پاتا ہے۔سختی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی بچوں کو خوش اخلاق بنائیں پس اپنے بچوں کو خوش اخلاق ان معنوں میں بنائیں کہ میٹھے بول بول سکتے ہوں۔لوگوں کو پیار سے جیت سکتے ہوں۔غیروں اور دشمنوں کے دلوں میں راہ پا سکتے ہوں۔اعلیٰ سوسائٹی میں سرایت کر سکتے ہوں۔کیوں کہ اسکے بغیر نہ تربیت ہو سکتی، نہ ( دعوت الی اللہ ) ممکن ہے۔بعض ( مربیان ) کو اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت عطا فرمائی ہے۔اسلئے اپنے ملک کے بڑے سے بڑے لوگوں سے جب وہ ملتے ہیں تو تھوڑی سی ملاقات میں وہ انکے گرویدہ ہو جاتے ہیں اور اسکے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے (دعوت الی اللہ ) کی عظیم الشان را ہیں کھل جاتی ہیں۔جہاں تک بچیوں کا تعلق ہے اس سلسلے میں بھی بار ہا ماں باپ سوال کرتے ہیں کہ ہم انہیں کیا بنا ئیں؟ وہ تمام باتیں جو مردوں کے متعلق یا لڑکوں کے متعلق میں نے بیان کی ہیں وہ ان پر بھی اطلاق پاتی ہیں۔لیکن اسکے علاوہ انہیں گھر گرہستی کی اعلیٰ تعلیم دینی بہت ضروری ہے اور گھر یلو اقتصادیات سکھانا ضروری ہے۔کیونکہ بعید نہیں کہ وہ واقفین بچیاں واقفین کے ساتھ ہی بیا ہی جائیں۔جب میں کہتا ہوں کہ بعید نہیں تو مراد یہ ہے کہ آپکی دلی خواہش یہی ہونی چاہیے کہ واقفین بچیاں