مشعل راہ جلد سوم — Page 423
423 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم وف مفتی ہیں۔ان کا نام لینا یہاں مناسب نہیں لیکن انہوں نے مجھے خط لکھا کہ ہم تو حیران رہ گئے ہیں دیکھ کر اور بعض عربوں نے کہا کہ ایسی خوبصورت زبان ہے، ایسی دلکش عربی زبان ہے حضرت مسیح موعود کی۔ایک شخص نے کہا۔میں بہت شوقین ہوں عربی لٹریچر کا مگر آج تک اس عظمت کا لکھنے والا میں نے کوئی عربی نہیں دیکھا۔پس عربی کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود کے اردو لٹریچر کا مطالعہ بھی ضروری ہے اور بچوں کو اتنے معیار کی اردو سکھانی ضروری ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود کے اردو لٹریچر سے براہ راست فائدہ اٹھا سکیں۔جہاں تک دنیا کی دیگر زبانوں کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے اب دنیا کے اکثر اہم ممالک میں ایسی احمدی نسلیں تیار ہو رہی ہیں جو مقامی زبان نہایت شستگی کے ساتھ اہل زبان کی طرح بولتی ہیں اور یہاں ہالینڈ میں بھی ایسے بچوں کی کمی نہیں ہے جو باہر سے آنے کے باوجود ہالینڈ کی زبان ہالینڈ کے باشندوں کی طرح نہایت شستگی اور صفائی سے بولنے والے ہیں۔لیکن افسوس یہ ہے کہ ان کا اردو کا معیار ویسا نہیں رہا۔چنانچہ بعض بچوں سے جب میں نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ ہالینڈش زبان میں تو وہ بہت ترقی کر چکے ہیں لیکن اردو زبان پر عبور خاصا قابل توجہ ہے یعنی عبور حاصل نہیں ہے اور معیار خاصہ قابل توجہ ہے۔پس آئندہ اپنی واقفین نسلوں کو کم از کم تین زبانوں کا ماہر بنانا ہوگا۔عربی، اردو اور مقامی زبان۔پھر ہمیں انشاء اللہ آئندہ صدی کے لئے دیگر ممالک میں احمدیت یعنی حقیقی (دین حق ) کی تعلیم پیش کرنے والے بہت اچھے (مربی) مہیا ہو جائیں گے۔آئندہ جماعت کی ضروریات میں بعض انسانی خلق سے تعلق رکھنے والی ضروریات ہیں جن کا میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا اور اب دوبارہ اس پہلو پر زور دینا چاہتا ہوں۔پس واقفین بچوں کے اخلاق پر خصوصیت سے توجہ کی ضرورت ہے۔انہیں خوش اخلاق بنانا چاہیے۔ایک تو اخلاق کا لفظ ہے جو زیادہ گہرے خصائل سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے متعلق میں پہلے کئی دفعہ بات کر چکا ہوں۔لیکن ایک اخلاق کا معنی عرف عام میں انسان کی میل جول کی اس صلاحیت کو کہتے ہیں جس سے وہ دشمن کم بناتا ہے اور دوست زیادہ۔کوئی بد مزاج انسان اچھا واقف زندگی ثابت نہیں ہو سکتا اور کوئی خشک مزاج انسان ملاں تو کہلا سکتا ہے، پیچ معنوں میں روحانی انسان نہیں بن سکتا۔ایک دفعہ ایک واقف زندگی کے متعلق ایک جگہ سے شکایتیں ملیں کہ یہ بد خلق ہے اور ترش روئی سے لوگوں سے سلوک کرتا ہے۔جب میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے یہ جواب دیا کہ سب جھوٹ بولتے ہیں۔میں تو بالکل درست اور صحیح چل رہا ہوں اور انکی خرابیاں ہیں۔جب توجہ دلاتا ہوں تو پھر آگے سے غصہ کرتے ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ خرابیوں کی طرف تو سب