مشعل راہ جلد سوم — Page 395
مشعل راه جلد سوم 395 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی ہیں۔اس لئے ان میں شرکت کو ہلکانہ سمجھیں اور یہ نہ سمجھا جائے کہ کچھ شامل ہو جائیں تو ٹھیک اور اگر شامل نہ ہوں تو کچھ فرق نہیں پڑتا۔بلکہ بکثرت شرکت سے ان کے بہت اچھے نتائج ظاہر ہوں گے۔مختلف مقابلوں کے معیار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ موجودہ معیار کسی حد تک اچھا رہا ہے مگر ابھی بہت سا خلاء ہے اپنے معیار کو بہت بلند کرنے اور ان خلاؤں کو بھرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ایک احمدی بچے کو جس قدر معلوم ہونا چاہیے ابھی اتنا اسے معلوم نہیں۔دینی معلومات اور ذیلی تنظیم کی ذمہ داری حضور نے فرما یاوقتی میلانات تو بعض اوقات پلٹ جایا کرتے ہیں لیکن مستقل ضمانت تو منتظمین ہی کے ذریعہ دی جاسکتی ہے۔اس لئے آج کے بعد خدام الاحمدیہ کو اس طرف پوری توجہ کرنی چاہیے اور بہت سے مستعد خدام کو علمی اور تربیتی کاموں کی طرف ڈالنا چاہیے کھیلوں کے معیار خدام کی توجہ کے محتاج نہیں کیونکہ جس ملک میں ہم رہ رہے ہیں وہاں پہلے ہی سے اس کی طرف بہت توجہ ہے۔مگر جہاں تک دینی معلومات کا اور حالت کا تعلق ہے۔وہ تمام تر ہماری تنظیموں پر عائد ہوتی ہے۔کھیلوں کے پہلو سے صرف بار بار خدام کو بتانے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنی جسمانی صحت سے غافل نہ رہیں اور جہاں جہاں رہتے ہیں وہاں اپنے علاقہ یا اپنے سکول میں ہمت کے ساتھ یہ ارادہ کر کے ان میں حصہ لیں کہ آپ نے ایک احمدی کی حیثیت سے ان میں شامل ہونا ہے اور نام پیدا کرنا ہے تا کہ آپ کے نام کے ساتھ دین کا نام بھی روشن ہو۔اس پہلو سے اگر حصہ لیں گے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے بہت برکتیں آپ کو ملیں گی۔کھیلوں کا معیار بلند کریں حضور نے فرمایا میں کل بھی اور آج بھی کھیلوں کے مقابلے دیکھتا رہا ہوں۔میں نے جائزہ لیا ہے کہ ہماری کھیلوں کا معیار دنیا کے معیاروں سے بہت پیچھے ہے۔فرق بہت زیادہ ہے اس کی توقع تو تھی ہی لیکن اس کے لئے اگر خاص طور پر خدام کو مختلف کھیلوں کے عالمی ریکارڈ سے وقتا فوقتا مطلع کیا جایا کرے تو اس سے ہمارے نو جوانوں کی کھیلوں کا معیار بہت بلند ہو جائے گا۔اگر معلومات مہیا کی جائیں تو دلچسپی بھی بڑھتی ہے اور فائدہ بھی ہوتا ہے اور اپنا معیار جانچنے کا موقع ملتا ہے۔اور اس طرح انسان آگے بڑھتا ہے۔مباہلہ کے اعجازی نشانات آخر پر ایک اور مقابلے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ یہ مباہلے کا مقابلہ ہے جو جاری ہو چکا