مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 394 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 394

مشعل راه جلد سوم 394 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت مصلح موعود کے زمانہ میں چارسی آئی ڈی انسپکٹر احمدی ہوئے۔حالانکہ وہ منفی مقاصد کے لئے اور رپورٹ کی تیاری کے لئے آئے ہوئے تھے۔مگر ان اجتماعات کی برکت سے احمدی ہو گئے اور پھر مخلص احمدی رہے۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے امریکہ اور افریقہ کے دورہ کے دوران اپنے ساتھ پیش آنے والے بعض واقعات کا بھی ذکر فرمایا اور بتایا کہ پروٹوکول اور دیگر کاموں کے لئے حکومت کی طرف سے ہمارے ساتھ آدمی لگائے گئے تھے لیکن وقت کے ساتھ دورہ میں ہی ان کے اطوار میں فرق پڑنے لگ جاتا۔چنانچہ ایک ملک میں ایسے ہی دوافراد نے بیعت بھی کی۔حضور نے فرمایا یہ واقعہ ایک دفعہ نہیں بارہا ہو چکا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے 1400 سال پہلے تمثیلاً جو بات بتائی تھی بعض دنیا دار اور شک کی نظر سے دیکھنے والے سمجھتے ہوں گے کہ یہ محض کہانیاں ہیں کہاں فرشتے اترتے ہوں گے۔لیکن ہم نے ایک دفعہ نہیں بیسیوں دفعہ اس کا مشاہدہ کیا ہے۔یقیناً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بات آج بھی پوری ہورہی ہے اور کل بھی پوری ہوگی۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے ان اجتماعات میں شرکت کا رجحان پیدا کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آئندہ سے خدام وانصار کو بہت پہلے سے ہی ایسی مہم جاری کرنی چاہیے کہ کثرت سے ایسی مجالس میں خدام و انصار اور اسی طرح لجنہ بھی جب کہ ان کی مجلس ہو شامل ہوں۔اگر ایسا ہوا تو اس کے نتیجہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ خدا کے فضل سے بہت نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔ربوہ میں اجتماعات پر پابندی لگانے کا پس منظر حضور انور نے ان اجتماعات پر غیر از جماعت کو بھی لانے کی تلقین فرمائی اور بتایا کہ ربوہ میں ایسے ہی آنے والوں میں سے ہر سال کچھ نہ کچھ بیعتیں ہو جایا کرتی تھیں۔چنانچہ اسی وجہ سے ہمارے مخالفین نے ربوہ میں ہونے والے کھیلوں کے اجتماعات کے خلاف اعتراض کیا اور حکومت سے دل آزاری کا بہانہ بنا کر انہیں بند کر وا دیا گیا۔حضور نے فرمایا ان کا اعتراض کھیلوں کی وجہ سے نہیں بلکہ کھیلوں کے ان اثرات کی وجہ سے تھا اور وہ جانتے تھے کہ احمدی خواہ کھیلوں کے لئے اکٹھے ہوں ان کے مذہبی اور روحانی مشاغل ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔اسی وجہ سے آج ہمارے اسیران راہ مولیٰ جیلوں میں بکثرت احمدی بنا کر سنت یوسفی کو زندہ کر چکے