مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 382 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 382

مشعل راه جلد سوم بیوی اور بچوں کا نگران ہونا چاہیے۔382 حضرت اسمعیل علیہ السلام کی پاکیزہ عادت ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام اپنے بیوی اور بچوں کو با قاعدہ مستقل مزاجی کے ساتھ نماز کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔بہت پرانی بات ہے ہزاروں سال پہلے کا واقعہ ہے تمام انبیاء قوم کو نصیحت کیا کرتے ہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام اس معاملے میں ایسا دل ڈال کر ایسی جان ڈال کر نصیحت فرمایا کرتے تھے اور ایسے بے قرار رہتے تھے اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ کے پیار اور محبت کی نظر ان پر پڑی اور قرآن کریم کی دائمی کتاب میں ان کا ذکر محفوظ فرما دیا۔اس سے ایک سبق بھی ہمیں ملتا ہے کہ ہم کوئی کام خواہ کیسے ہی دنیا کی نظر سے مخفی طور پر کریں۔دنیا کی نظر سے اوجھل رہ کر بھی کریں، آباد شہروں کے بیچ میں کریں یا صحراؤں کے درمیان ایک چھوٹی سی بستی میں کریں۔شہر کی گلیوں میں کریں یا اپنے گھر کے خلوت خانے میں کریں، خدا کی نظر ہر کام پر پڑتی ہے اور جس کام کو خدا قبولیت عطا فرماتا ہے اس کام پر محبت اور پیار کی نظر رکھتا ہے اور اس کام کو ضائع ہونے نہیں دیتا اس نصیحت کی جو جزاء آپ کو اخروی دنیا میں ملے گی وہ ایک الگ جزاء ہے لیکن آپ کی مثال کو قیامت تک کے لئے دنیا کے سامنے زندہ کر کے پیش کر دینا خود اپنی ذات میں ایک اتنی عظیم الشان جزا ہے کہ اس کی مثال کم دنیا میں دکھائی دیتی ہے۔یہ نصیحت بچپن سے شروع کریں پس وہ اسماعیلی صفت اپنے اندر پیدا کریں اپنی بیویوں کی نمازوں کے متعلق متوجہ ہوں اپنے بچوں کی نمازوں کی طرف متوجہ ہوں۔اپنی بچیوں کی نمازوں کی طرف متوجہ ہوں اور یا درکھیں کہ اس کام کو جب تک بچپن سے آپ شروع نہیں کریں گے یہ کام ثمر دار ثابت نہیں ہو گا اس محنت کا ویسا پھل آپ کو نہیں مل سکتا جیسا کہ آپ توقع رکھتے ہیں۔یہ وہ دوسری نصیحت ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی جب آپ نے یہ فرمایا کہ بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دائیں کان میں اذان کہو۔جب آپ نے یہ فرمایا کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے بائیں کان میں تکبیر کہو تو در حقیقت انسانی فطرت کا یہ گہرا راز ہمیں سمجھا دیا کہ تربیت کے لئے کسی خاص عمر کا انتظار نہیں کیا جاتا جو نہی بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے وہ تمہاری ذمہ