مشعل راہ جلد سوم — Page 383
383 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم داری بن جاتا ہے اور اس دن سے اس کی تربیت کا آغاز ہو جاتا ہے۔اس مضمون پر اس سے پہلے بھی میں روشنی ڈال چکا ہوں کہ گزشتہ زمانوں میں تو ایک جاہل انسان یہ اعتراض کر سکتا تھا کہ یہ ارشاد بے معنی اور مہمل ہے کیونکہ پہلے دن کے بچے کو تو کچھ سمجھ نہیں آتا۔وہ تو نہ زبان سمجھتا ہے نہ اشارے جانتا ہے۔اپنے ماں باپ تک کو پہچان نہیں سکتا۔اس کے کان میں اذان دینے کا کیا مطلب ہے۔مگر آج کی تحقیق نے بڑی وضاحت کے ساتھ یہ معاملہ کھول دیا ہے اور اس مقدمے کو حل کر دیا ہے کہ بچہ نہ صرف یہ کہ ماں کے پیٹ سے باہر آنے پر فوری طور پر اثر قبول کرنے لگ جاتا ہے بلکہ اب تو سائنسدان یہ بات بھی دریافت کر چکے ہیں کہ ماں کے پیٹ میں پیدائش سے پہلے بھی وہ بیرونی دنیا کے اثرات کو قبول کرتا ہے اس پر غور کرتے ہوئے میری توجہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور نصیحت کی طرف مبذول ہوئی۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب میاں بیوی تعلقات قائم کرتے ہیں تو اس وقت بھی دعا کیا کرو۔اس وقت بھی شیطان کے لمس سے محفوظ رہنے کی دعا کیا کرو اور خدا سے پناہ مانگا کرو تو معلوم ہوا کہ پیدائش کے بعد تربیت کا ایک خاص مرحلہ شروع ہوتا ہے لیکن دراصل پیدائش سے پہلے بھی تربیت کا ایک مرحلہ شروع ہو جاتا ہے اور بچہ بننے کے وقت یا اُس کے آغاز کے وقت یا اس کے آغاز کے امکان کے وقت بھی انسان کو اپنی آئندہ نسلوں کی تربیت کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور خدا تعالیٰ سے استدعا کرنی چاہیے۔آئندہ آنیوالی نسلوں کے لئے دعا کریں پھر مزید میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ مضمون تو اس سے بھی زیادہ گہرا ہے اور اس سے بھی زیادہ وسیع تر ہے۔انبیاء کی تاریخ ہمیں بتلاتی ہے کہ وہ مدتوں بعد پیدا ہونے والی نسلوں کے لئے بھی دعا کیا کرتے تھے جن کا کوئی وجود نہیں تھا۔وہ شہر مکہ جو آج تمام دنیا کے لئے مرجع خلائق ہے جب اس کے کھنڈرات کو از سر نو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بلند کرنا شروع کیا تو اُس وقت قیامت تک اپنی آنے والی نسلوں کے لئے دعائیں مانگیں پس حقیقت یہ ہے کہ تربیت کا آغاز بچے کے بڑے ہونے کے وقت کا منتظر نہیں ہوتا بلکہ اس کی پیدائش کے ساتھ اُس کی پیدائش سے پہلے بلکہ اس سے بھی پہلے شروع ہو جاتا ہے۔یعنی آپ صرف اپنی اولاد کے لئے دعا نہ کریں بلکہ اولاد در اولاد اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی دعا کریں۔