مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 358 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 358

358 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم میں نے کہا بہت اچھا تم مجھے تنخواہ نہ دو اس دن میں اس کے بغیر بھی زندہ رہ لوں گا لیکن جمعہ میں نے نہیں چھوڑنا۔چنانچہ انہوں نے اس دن زبر دستی فراغت حاصل کی اور با قاعدہ جمعہ پر جاتے رہے اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو برکتیں عطا فرمائیں ان کا بھی انہوں نے ذکر کیا۔پھر ایک خاتون نے ذکر کیا کہ ایک جگہ مسلمانوں کی طرف سے با قاعدہ یہ معاملہ پیش ہوا جو بالآخر عدالت تک پہنچا۔اور اب ہمارے حق میں یہ عدالتی فیصلہ ہو چکا ہے کہ مسلمانوں کو جمعہ کا حق ہے اور اس سے انہیں زبر دستی روکا نہیں جا سکتا اس لئے کسی حد تک امریکہ میں کچھ کام ہوا ہے۔یہاں بھی اگر احمدی ماں سب سے پہلے اپنے بچوں کو روکنا شروع کر دیں پھر وفود لے کر اساتذہ اور انتظامیہ تک پہنچیں ، اخباروں میں لکھیں جماعت اپنے طور پر کوشش کرے مثلاً ایم پی اے سے ملے تو میرے خیال میں بہت بڑی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔لیکن اگر رخصت حاصل کرنے میں کامیابی نہ ہو تب بھی قربانی کرنی چاہیے اس کی طرف میں اب جماعت کو بلاتا ہوں دوست کوشش کریں کہ آپ کو رخصت مل جائے ، آپ کے لئے آسانی پیدا ہو جائے لیکن اگر یہ نہیں کر سکتے تو جمعہ کے دن اپنے بچوں کو سکول بھیجنا بند کر دیں اور سکول والوں سے کہیں کہ جمعہ ہمارا مقدس دن ہے ہم نے بچوں کو جمعہ ضرور پڑھانا ہے اس دن ان کو نہلائیں دھلائیں ان کو جمعہ کے لئے خاص طور پر تیار کریں اس سے ان کو نہانے کی اہمیت کی طرف بھی توجہ ہوگی۔میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ مغربی ممالک میں بسنے والے احمدیوں کو پاکی ناپاکی کا بھی اتنا زیادہ احساس نہیں رہتا اور ان کو پتہ ہی نہیں کہ بعض دنوں کے ساتھ غسل واجب ہے بعض امور کے ساتھ فسل کا گہرا تعلق ہے اور جمعہ ان میں سے ایک ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ہر مسلمان پر غسل واجب ہے۔اور اس کا اکثر احمدیوں کو بھی پتہ نہیں کہ یہ اتنی اہم نصیحت موجود ہے۔اس لئے اس دن بچوں کو نہلایا دھلایا جائے ، ان کو کہا جائے کہ آج جمعہ کی تیاری کرنی ہے۔آج تلاوت ہو گی۔آج اور نیک باتیں ہوں گی۔ہم تمہیں عام دنوں کی نسبت دین کی زیادہ تعلیم دیں گے۔اس طرح کریں تو میرے خیال میں ایک بہت ہی بابرکت اور پاکیزہ ماحول پیدا ہو جائے گا۔میں یقین رکھتا ہوں کہ ہمیں قانونی طور پر یہ تحفظ ضروری حاصل ہو جائے گا بشرطیکہ ہم اس مہم کو سنجیدگی سے شروع کریں اور قربانی کے لئے تیار رہیں۔اگر بغیر قربانی کے مفت میں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو ہماری دعاؤں میں اتنا اثر پیدا نہیں ہو گا۔خدا کے حضور دعا کریں اور عرض کریں کہ ہم تو اب تیار ہو گئے ہیں اس لئے تو ہماری مددفرما ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ اکثر ابتلاؤں سے بچالیا کرتا ہے۔اور اگر کچھ ابتلاء پیش بھی آجائیں تو اللہ تعالیٰ