مشعل راہ جلد سوم — Page 353
مشعل راه جلد سوم 353 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی بعض گھروں میں تو باقاعدہ نہانے والی نائیں آیا کرتی تھیں وہ اپنے خاص طریق پر پانی گرم کرتیں اور بچوں کو غسل دیتیں۔جمعہ کی نماز سے پہلے کی یہ تیاری دل پر ایک گہرا اثر چھوڑتی تھی اور ایسے نقش جمادیتی تھی جو پھر کبھی مٹ نہیں سکتے۔پھر بڑے اہتمام کے ساتھ جمعہ پر جانا اور جمعہ میں بیٹھ کر نصائح سننا، جمعہ کے آداب سے واقف ہونا اور ایسے مسائل جو روز مرہ کی زندگی میں انسان کے سامنے نہیں آتے جمعہ کے خطبہ کے ذریعہ انسان تک پہنچ سکتے ہیں۔بچے خود ان کو سنتے ہیں۔چنانچہ میں نے جب اپنی حالت پر غور کیا تو مجھے بھی یہ محسوس ہوا کہ بچپن کے زمانہ میں سب سے زیادہ تعلیم و تربیت میں اگر کوئی چیز میں تھی تو وہ جمعتہ المبارک تھا۔حضرت مصلح موعود ( نور اللہ مرقدہ کے خطبات آپ کے قریب بیٹھ کر سننے کا موقع ملتا تھا۔تمام دنیا کے مسائل کا آپ کے خطبات میں مختلف رنگ میں ذکر آتا چلا جاتا تھا۔دین کا بھی ذکر ہوتا اور دنیا کا بھی۔پھر ان کے باہمی تعلقات کا ذکر ہوتا تھا۔سیاست جہاں مذہب سے ملتی ہے اور جہاں مذہب سے الگ ہوتی ہے غرضیکہ ان سب مسائل کا ذکر ہوتا تھا۔چنانچہ قادیان میں یہی جمعہ تھا جس کے نتیجہ میں ہر کس و ناکس، ہر بڑے چھوٹے اور ہر تعلیم یافتہ وغیر تعلیم یافتہ کی ایک ایسی تربیت ہورہی تھی جو بنیادی طور پر سب میں قدر مشترک تھی یعنی پڑھا لکھا یا ان پڑھ، امیر یا غریب اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں رکھتا تھا کہ بنیادی طور پر احمدیت کی تعلیم اور احمدیت کی تربیت کے علاوہ دنیا کا شعور کبھی حاصل ہو جایا کرتا تھا۔چنانچہ بہت سے احمدی طلبہ جب مقابلے کے مختلف امتحانات میں اپنی تعداد کی نسبت سے زیادہ کامیابی حاصل کرتے تھے تو بہت سے افسر ہمیشہ تعجب سے اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے کہ احمدی طلبہ میں کیا بات ہے کہ ان کا دماغ زیادہ روشن نظر آتا ہے، ان کو عام دنیا کا زیادہ علم ہے، ان کے اندر مختلف علوم کے درمیان ربط قائم کرنے کی زیادہ صلاحیت ہے۔اس مسئلہ کو ایک دفعہ مولوی ظفر علی خان صاحب نے بھی چھیڑا۔انہوں نے ایک موقع پر کہا کہ تم مرزا محمود کا کیا مقابلہ کرتے ہو۔مرزا محمود نے اپنے احمدیوں کی جس طرح تربیت کی ہے جس طرح ان کو تعلیم دیتا ہے تم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔احمدیوں کا یہ حال ہے اگر کوئی سیاست دان یہ سمجھتا ہو کہ اسے بڑی سیاست آتی ہے اس نے اگر سیاست بھی سیکھی ہوتو وہ قادیان سے بٹالہ تک کسی قادیان والے کے یکے میں بیٹھ کر سفر کرے تب اس کو سمجھ آئے گی کہ سیاست ہوتی کیا ہے۔قادیان کا یکہ بان بھی سیاست دانوں کو سیاست کے گر سمجھا سکتا ہے۔اس نے حضرت مصلح موعود ( نور اللہ مرقدہ) کو یہ خراج تحسین دیا حالانکہ وہ احمدیت کا شدید دشمن تھا۔