مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 338 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 338

مشعل راه جلد سوم 338 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نظام جماعت تک پہنچائے ، تو یہ سننانا جائز نہیں ہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ بلا کم و کاست اس بات کو پھر نظام جماعت تک ضرور پہنچائے اس کے بغیر اس کو کوئی حق نہیں ہے۔پس جتنے فحشاء پھیلتے ہیں نظام جماعت سے جتنے اعتما داٹھتے ہیں، جتنے فساد پیدا ہوتے ہیں ان کے نتیجہ میں آپ کی زندگی کا ہر اجتماعی شعبہ متاثر ہو جاتا ہے کسی اجتماعی شعبے کی حفاظت کی یقین دہانی نہیں کرائی جاسکتی گویا کہ اوپر سے نیچے تک آپ دشمن کے سامنے اپنے سینے ننگے کر کے کھڑے ہیں اس کے لئے قرآن کریم نے آپ کو جو ڈھال دی تھی اس کو آپ چھوڑ بیٹھے ہیں اور وہ ڈھال اسی آیت میں بیان فرمائی گئی ہے۔جماعت احمدیہ کے ہر ممبر کا فرض ہے اس نے ابھی لمبے سفر طے کرنے ہیں اپنے معاشرے، اپنے نظام کی حفاظت کرنی ہے کیونکہ یہ جماعت ایک سو سال کے لئے تو نہیں ہے۔ابھی تو ہمیں اپنے اعلیٰ تر مقصد کو حاصل کرنے میں یعنی دین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام ادیان پر غالب کرنے میں بڑا وقت درکار ہے۔اس وقت سے پہلے اگر آپ ان قدروں سے ہٹ جائیں گے ، ان بنیادی اصولوں سے ہٹ جائیں گے جن کے ہٹنے کی قرآن کریم کسی قیمت پر اجازت نہیں دیتا ، جن کے متعلق کھول کر بیان کر رہا ہے کہ ایک ذرہ بھی تم ان مناصب سے ہٹو گے تو اس کا نتیجہ لازما موت ہے اور فساد ہے اور بے نظمی ہے، تمہارے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔اتنی واضح نصیحت کے باوجود اگر آپ بار باران باتوں کو نظر انداز کریں گے بار بار نصیحت کو سنیں گے اور پھر بھی اپنے اندر فحشاء کو پھیلنے دیں گے چسکوں کی خاطر یا عورتوں اور مردوں کے جھگڑوں کو اپنے کانوں کے چسکوں کی خاطر سنیں گے تو آپ قومی مجرم ہیں۔نیت بھلائی کی ہے یا نہیں یہ میں نہیں جانتا لیکن آپ قومی مجرم ضرور ہیں۔اس لئے ساری دنیا کے احمدیوں کو اس بات میں متنبہ ہو جانا چاہیے کہ جو اختیار ان کو دیا گیا ہے اس سے انہوں نے نہیں دوڑنا۔جو اختیار قرآن کریم نے بنی نوع انسان کو دیئے ہیں اس سے اگر وہ ہٹتے ہیں تو پھر آپ نہ نہیں اور ان کو یک طرفہ ٹکرانے والا سمجھ لیں لیکن آپ نے اپنے مقام کو چھوڑ کر ان کی طرف مائل نہیں ہونا اگر یہ ہوگا تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے پھر تفاوت نہیں ہوگا پھر اگر آپ سے کوئی یک طرفہ ٹکراتا ہے اپنے منصب کو چھوڑتا ہے اور جماعتی نظام پر حملہ کرتا ہے تو خدا نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ اس نے اس کے لئے شعلہ بردار مقرر فرما ر کھے ہیں جو اسے جہنم تک پہنچا کے چھوڑیں گے اس کو ضرور نا کام اور نامراد کر کے دکھائیں گے۔اس لئے آپ کو کیا خطرہ ہے کہ آپ اٹھتے ہیں اور اس سے متصادم ہونے کے لئے اپنی راہیں چھوڑ دیتے ہیں، اپنے رستوں سے ہٹ جاتے ہیں۔