مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 339

مشعل راه جلد سوم 339 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی خلافت احمدیہ کی حفاظت کے لئے ہر قربانی کے لئے تیارر ہیں ان امور پر میں کئی دفعہ خطبات دے چکا ہوں لیکن پھر بار بار یہ باتیں سامنے آتی ہیں کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں یہ معمولی باتیں ہیں کیا فرق پڑا اگر ہم نے چپکے سے فلاں کی بات سن لی ، ساتھ ساتھ اپنی دانست میں خلیفہ وقت کی حفاظت بھی کر لی۔کہہ دیا کہ ہاں ہاں کسی کی باتوں میں آ گیا ہوگا۔خود تو اپنی ذات میں شریف آدمی لگتا ہے خود تو جھوٹا اور غیر منصف نظر نہیں آتا اس لئے ضرور باتوں میں آ گیا ہوگا۔یعنی غیر منصف بھی قرار دے دیا اور ساتھ ہی بے وقوف بھی قرار دے دیا۔اچھا دفاع کیا ہے خلیفہ وقت کا۔یعنی پہلے تو صرف ظالم کہا تھا آپ نے کہا کہ ظالم صرف نہیں ہے، احمق بھی بڑا سخت ہے اس کو چغلیوں کی بھی عادت ہے یک طرفہ باتیں سنتا ہے اور فیصلے دیتا چلا جاتا ہے۔حسن ظنی میں میں کہتا ہوں کہ آپ نے اپنی طرف سے دفاع کیا لیکن یہ کیا دفاع ہے اس پر تو غالب کا یہ مصرع آپ پر صادق آتا ہے کہ بع ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو اگر آپ نے خلافت کا ایسا ہی دفاع کرنا ہے آپ کے یہی عزم تھے جب آپ نے عہد کئے تھے کہ ہم قیامت تک اپنی نسلوں کو بھی یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ تم نے خلافت احمدیہ کی حفاظت کرنی ہے اور اس کے لئے ہر چیز کی قربانی کے لئے تیار رہو گے اگر عہد سے آپ کی یہی مراد ہے تو یہ عہد مجھے نہیں چاہیے۔خلافت احمدیہ کو یہ عہد نہیں چاہیے۔کیونکہ اس قسم کی حفاظت نقصان پہنچانے والی ہے فائدہ پہنچانے والی نہیں ہے۔لیکن یہ صرف ایک خلافت کا معاملہ نہیں ہے سارے نظام ( دین حق ) کا معاملہ ہے تمام ( دینی ) قدروں کا معاملہ ہے۔ہم تو دور کے مسافر ہیں ایک صدی کا ہمارا سفر نہیں ہے سینکڑوں سال تک اور خدا کرے ہزاروں سال تک ہم ( دین حق ) کی امانت کو حفاظت کے ساتھ نسلاً بعد نسل دوسروں تک منتقل کرتے چلے جائیں ان اہم مقاصد کے لئے آپ کو پوری طرح ہتھیار بند ہونا چاہیے آپ ان معاملوں میں کیوں بار بار شیطان کے حملوں کے لئے اپنے سینوں کو پیش کرتے ہیں جن میں قرآن کریم نے آپ کو کھول کھول کر بیان فرما دیا ہے کہ ان اصولوں سے ہٹو گے تو موت کے سوا تمہارا کوئی مقدر نہیں ہے۔“ (ضمیمہ ماہنامہ انصار اللہ دسمبر 1987ء)