مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 324 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 324

324 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم نہیں دیتا۔پھر جب تردد کرتا ہے غور کرتا ہے تو اگر جب علم کامل نہ ہو، سفر آغاز میں ہو یہ تو وہ سمجھتا ہے کہ میں نے بہت سی خرابیاں محسوس کر لی ہیں ، بہت سی خرابیاں دریافت کر لی ہیں۔لیکن جب انسان اور زیادہ گہری اور عمیق نظر سے مطالعہ کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا پہلا علم خام تھا۔خدا کی کائنات میں کوئی خامی نہیں۔سائنس نے جو معلوماتی سفر کیا ہے اس پر بھی یہ ادوار آئے اور قرآن کریم کے مطالعہ کرنے والوں پر بھی یہ ادوار آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اپنی حفاظت اور اپنی پناہ میں رکھتے ہوئے لمس شیطان سے پاک رکھتے ہوئے گہرے اور عمیق مضامین کے مطالعہ اور ان کے فہم کی توفیق عطا فرماتا ہے اور اس کے نتیجہ میں پھر اس آیت میں جو منظر بیان ہوا ہے کہ ساری کائنات میں تم کہیں کوئی فتور نہیں دیکھو گے اس مضمون میں انسان حق الیقین تک پہنچ جاتا ہے۔جس سرسری نظر کے مطالعہ سے تضاد کا میں نے ذکر کیا ہے اس کے متعلق میں واضح طور پر آپ کے سامنے اس کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں۔پہلے فرمایا الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالحَيَوة کہ اس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمُ اَحْسَنُ عَمَلًا تا کہ وہ معلوم کرے کہ تم میں سے کون بہتر اعمال کرنے والا ہے اور جس کے نتیجہ میں وہ زندہ رہ سکتا ہے۔اب مضمون کا آغاز ہی ایک جدو جہد کے بیان سے ہوا ہے۔فرمایا زندگی اور موت کے درمیان ایک مسلسل جہد وجد ہے اور آگے چل کر فرمایا کہ ساری کائنات میں تم کوئی تفاوت نہیں دیکھو گے۔تفاوت کی تفصیل میں ابھی بیان کروں گا لیکن عام معنی جو اس سے سمجھ آتا ہے وہ یہ ہے کہ مقابلہ۔یعنی چیزوں کا آپس میں مدمقابل نہیں پاؤ گے۔چنانچہ عربی لغات ، تفاوت کا ایک معنی یہ بیان کرتی ہیں کہ کسی قسم کا مقابلہ نہیں دیکھو گے۔تو بات مقابلے سے ہی شروع فرمائی گئی۔کہا یہ گیا کہ ہم نے خود موت اور زندگی کو باہم متقابل پیدا کر دیا ہے اور اس مقابلے کا مقصد یہ ہے کہ تا تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون ایسے اعمال والا ہے جو Survival of the fittest کے مطابق زندہ رہنے کی اہلیت رکھتا ہے اور آگے بڑھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ساری کائنات میں ہر جگہ آپ کو زندگی موت کے مد مقابل دکھائی دے گی اور ساری کائنات کا فلسفہ اسی تقابل پر مبنی ہے اگر موت اور زندگی کی لڑائی ختم کر دی جائے تو کائنات کا وجود نظر سے غائب ہو جائے گا جو کچھ بھی ہمیں دکھائی دیتا ہے وہ اس تقابل کے نتیجہ میں دکھائی دیتا ہے اور اہل علم سائنسدان جانتے ہیں کہ اس تقابل کے محرکات کو اگر ختم کر دیا جائے تو ساری کائنات بے معنی ہو جائے گی۔کوئی ترقی نہیں ہوسکتی کوئی ارتقاء نہیں ہو سکتا جمود پیدا ہو جائے گا یعنی آخری موت کی شکل ہمیں دکھائی دے گی اس لئے ایک طرف تو