مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 315 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 315

315 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم کا تعلق جوڑنے کے باوجود اس سے مرعوب ہو کر نہ رہیں۔اس پر غالب ہوکر رہیں۔ہمیشہ یہ احساس اپنے ذہن میں غالب رکھیں کہ آپ خدا کے نمائندہ ہیں۔اور جس طرح خدا ہر فیض کا سرچشمہ ہے آپ سے بھی فیض دنیا تک پہنچے۔ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہیں کہ آپ کسی نہ کسی رنگ میں کسی انسان کے لئے بھلائی کا موجب بن جائیں۔خدمت کے موقعوں کی تلاش میں رہیں۔حسن خلق کے ذریعہ بھی یہ خدمت ہوسکتی ہے مسکراہٹوں اور پیار کے ذریعہ بھی یہ خدمت ہو سکتی ہے۔مصیبت زدہ کو مصیبت سے نکالنے کی کوشش کے ذریعہ، بیمار پرسی کرنے کے ذریعہ، خدا سے غافل لوگوں کو خدا کی طرف متوجہ کر کے دعاؤں سے آشنا کر کے بھی یہ خدمت ہو سکتی ہے غرضیکہ ایسے بن جائیں کہ ہمیشہ ذہن خدمت کی راہیں تلاش کرتا رہے ہمیشہ ذہن یہ سوچتا ہے کہ میں کس طرح فیض رساں وجود بنوں۔اور میری ذات سے ان لوگوں کوضرور کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچے۔یہی وہ راز ہے جس کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں بعض دفعہ لوگ احادیث کو پڑھتے بھی ہیں لیکن ان کے اندر مخفی خزانوں سے ناواقف رہتے ہیں۔خدا کا ذکر کرنے والوں کے واقعات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ تمثیل کے طور پر خدا کا ذکر کرنے والوں کے بعض واقعات بیان فرمائے۔ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار آپ نے ایسے واقعات بیان فرمائے جن میں سے ایک بات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ خدا کے فرشتے دنیا کے حالات کے متعلق جو کچھ دنیا میں گزر رہا ہے ریکارڈ رکھتے ہیں۔اور یہ ریکارڈ ملاء اعلیٰ میں خدا کے حضور پیش کیا جاتا ہے ایسے ہی ایک مامور فر شتے نے خدا سے عرض کیا کہ اے خدا ! فلاں وقت فلاں جگہ کچھ لوگ خالصہ اس لئے اکٹھے ہوئے تھے کہ تیرا ذکر کریں۔اور جب تک میں ان کی نگرانی کرتارہاوہ تیرے ہی ذکر میں اور تیری ہی محبت کی باتوں میں مشغول رہے یہ بات جب اس نے پیش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے ان کے سارے گناہ بخش دیئے۔اور میں انہیں مغفرت کی خوشخبری دیتا ہوں۔اور جنت کی خوشخبری دیتا ہوں۔اس پر اس پیش کرنے والے فرشتے نے عرض کیا کہ اے خدا! اس مجلس میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہو گئے تھے جو مسافر تھے ایک مجلس دیکھ کر وہاں رک گئے۔اور ستانے کے لئے ٹھہر گئے ان کا مقصد ذکر الہی نہیں تھا کیا وہ بھی اس خوشخبری میں شامل ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہاں وہ بھی کیونکہ وہ لوگ جو میرا ذکر کرتے ہیں ان کے پاس آنے والے بھی ان کی برکتیں پا جاتے ہیں۔ان کے قریب بیٹھنے والے بھی برکتوں سے محروم نہیں رہتے۔اس کے نتیجہ میں اکثر لوگ