مشعل راہ جلد سوم — Page 310
مشعل راه جلد سوم 310 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی تصویر جوان ذہنوں پر قائم ہے وہ بہت ہی بگڑی ہوئی ہے۔ان نقوش کو پہلے ہمیں مٹانا ہوگا۔نئی نسلیں سچائی کی تلاش میں ہیں دوسرے محض دعوئی اور دلائل سے یہ آپ کی بات نہیں مانیں گے۔دعویٰ اور دلائل کے ذریعہ تو عیسائیت نے بھی بہت لمبا عرصہ ان کے دل و دماغ پر حکومت کی ہے۔اور آج کی نئی نسلیں ان کے طلسم سے باہر آ رہی ہیں آج کی نئی نسلوں پر وہ جادوٹوٹ چکا ہے۔اور وہ یہ عزم لے کر اٹھی ہیں۔کہ ہم کسی نظریے اور کسی دعوی کو نظریات کی بناء پر قبول نہیں کریں گی۔بلکہ ہمیں لازماً سچائی کو دیکھنا ہوگا اور پرکھنا ہوگا۔اور جب تک سچائی کو ہم مشہودات کی دنیا میں اپنے سامنے دیکھ نہ لیں اور محسوس نہ کر لیں اس وقت تک ہم اس کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے۔الفاظ میں تو یہ اعلان نہیں لیکن عملاً آج کا نئے دور کا یورپین نو جوان یہی اعلان کر رہا ہے۔گزشتہ تمام نظریات اور تہذیبی تقاضوں اور تمدنی اقدار کے خلاف وہ علم بغاوت بلند کر چکا ہے۔دین کے زبانی دعوے کافی نہیں ان کے سامنے جب آپ اپنا دین پیش کریں گے تو محض زبانی دعوؤں پر ہرگز اسے تسلیم نہیں کریں گے اگر زبانی دعوؤں سے ہی کسی مذہب کو قبول کرنا ہوتا تو عیسائیت کے قبضہ سے نکل کر یہ باہر کی طرف سفر کیوں شروع کرتے۔جب میں کہتا ہوں کہ عیسائیت کے قبضہ سے نکل کر ، تو ممکن ہے کہ بہت سے یورپین عیسائی اس بات پر بُرا منائیں اور وہ یہ سمجھیں کہ یہ بات درست نہیں۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یورپ میں جہاں جہاں بھی میں نے سفر کیا اور جہاں جہاں بھی پریس کو انٹرویوز دیئے اور اصحاب علم و دانش سے ملاقاتیں کیں۔وہاں ان سب مذکرات کے بعد گفت و شنید کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وہ لوگ جو سچائی کے ساتھ اپنے معاشرے کا مطالعہ کر رہے ہیں، وہ سب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اب عیسائیت کا تسلط یورپین ممالک پر بے حد کمزور ہو چکا ہے اور وہ لوگ جو نظریات کے لحاظ سے عیسائی ہیں بھی۔بہت تھوڑے سے ان میں سے ہیں جو فی الحقیقت کامل یقین کے ساتھ عیسائیت کے متبع ہیں اس پر پورا ایمان رکھتے ہیں۔اور اس ایمان کو اپنے عمل میں ڈھال رہے ہیں۔