مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 296 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 296

مشعل راه جلد سوم 296 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی سات سال کی عمر بتاتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو نو سال یا دس سال کی عمر بتاتے ہیں لیکن سات سال سے کم کوئی نہیں بتا تا اس لحاظ سے سات سال کا یقینا کوئی تعلق ضرور۔پس بچے کی سات سال سے دس سال کی عمر بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے یہ ایک اہم موڑ ہے جو بچے کی زندگی میں آتا ہے سات سال سے پہلے کا دور اثر پذیر ہونے کا دور ہے۔سات سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے بچے کو اپنے فیصلے کا کچھ نہ کچھ ا ختیار حاصل ہو جاتا ہے اس کے اندر کچھ نہ کچھ شعور پیدا ہوجاتا ہے۔اسی لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچہ جب سات سال کا ہو جائے تو اس کو نصیحت کر کے نمازیں پڑھاؤ عبادت کے مزے چکھانے شروع کر دو۔معلوم ہوتا ہے اس میں یہ فیصلے کی قوت پیدا ہو چکی ہے کہ ہاں میں نے کچھ کرنا ہے اس لئے اس اختیار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو یہ بتا نا شروع کر دو لیکن وہ ایسے رنگ میں اثر قبول کرے جس میں ارادے کا نمایاں دخل نہ ہو کیونکہ یہ عمر جتنی چھوٹی ہوتی ہے اتنا ہی اس عمل میں زیادہ اثر پذیر ہوتا ہے۔قوت فیصلہ کے ذریعہ نہیں بلکہ جنبی طور پر۔وہ جب ماں باپ کو مسکراتے دیکھ رہا ہوتا ہے تو بعض دفعہ ماں باپ کی مسکراہٹ کی ایک جھلک بلا ارادہ اس کی مسکراہٹ میں اس طرح داخل ہو جاتی ہے کہ وہ بڑھاپے تک قائم رہتی ہے ماں باپ کی باتیں کرنے کا طریق کیا ہوتا ہے ان کے غصے کا اظہار کیسے ہوتا ہے وہ خوش کیسے ہوتے ہیں۔یہ ساری چیزیں ہیں جن کو بچہ قبول کر رہا ہوتا ہے لیکن ارادہ کے ساتھ نہیں کر رہا ہوتا اور چونکہ ارادے کے ساتھ قبول نہیں کر رہا ہوتا اس لئے ایک فطرتی عمل کے طور پر یہ چیزیں اس کے اندر داخل ہو رہی ہوتی ہیں البتہ جو چیزیں اس دور میں فطرتی عمل کے طور پر اس کے اندر داخل ہو جائیں بعد میں ان کو بالا رادہ طور پر ڈھال لینا اور ان کو زیادہ خوبصورت بناد بن یہ ممکن ہے لیکن جو باتیں اس عمر میں اس کے اندر داخل ہی نہ ہوئی ہوں وہ خلا ہیں جو بعد میں بھرے نہیں جاسکتے اس لئے جب ہم سات سال کی عمر سے پہلے بچے کو تنظیموں کے سپرد نہیں کرتے تو دوسری حکمتوں کے علاوہ ایک حکمت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ارادے کو ڈھالنے کے لئے تو اجازت دی ہے کیونکہ شریعت میں اپنا ارادہ شامل ہونا ضروری ہے شریعت میں صرف دوسرے کا ارادہ کافی نہیں ہے اس لئے جہاں شرعی فرائض یا منا ہی آجاتے ہیں وہاں سات سال سے پہلے بچے کو ایسے احکام جاری کرنے کی اجازت نہیں ہے جن میں اس کے ارادے کا دخل ہو۔پس یہ وہ فرق ہے جس کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔