مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 295 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 295

295 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم اولاد کا تعلق ہے ان کے بچانے کا عمل ان کی پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔سات سال کی عمر خصوصیت کے ساتھ اہمیت رکھتی ہے جیسا کہ ماہرین نفسیات بھی کہتے ہیں اور ان میں سے بعض فرق بھی کرتے ہیں۔بعض سات سال کو کچھ بڑھا دیتے ہیں بعض کچھ کم کر دیتے ہیں لیکن عموماً اس بات پر یہ اتفاق ہے کہ سات سال کے لگ بھگ عمر بہت ہی اہمیت رکھتی ہے بچہ جب اس عمر کو پہنچتا ہے تو نفسیاتی لحاظ سے گویا وہ پختگی میں داخل ہوتا ہے یعنی پختگی کی جانب تیزی سے قدم اٹھانے لگتا ہے اور وہ کچھی عمر جو نفسیاتی لحاظ سے اثر قبول کرنے والی کہلاتی ہے اور جو بچے کی عمر کا سب سے زیادہ حساس دور ہوتا ہے وہ سات سال سے پہلے ہی کی عمر کا دور ہے اس لئے جہاں تک اس کی اہمیت کا تعلق ہے اس سے تو کوئی انکار نہیں ہے لیکن جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک فرائض عائد ہونے کا تعلق ہے ان کا آغاز سات سال کی عمر سے ہو جاتا ہے لیکن نرمی کے ساتھ ہوتا ہے یعنی تربیت کا جو ظاہری رسمی دور ہے وہ سات سال کے بعد ہی شروع ہوتا ہے دس سال کی عمر کے بچے اگر نماز نہ پڑھیں تو ان کو مارنے کی بھی اجازت مل جاتی ہے۔جب وہ بارہ سال کی عمر کو پہنچ جائیں توان کو اتنا پختہ سمجھا جاتا ہے کہ اب وہ بالکل آزاد ہیں ان کو نصیحت تو کی جائے لیکن ان پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے۔تربیتی لحاظ سے جو کچھ تم نے کرنا تھا وہ تم کر چکے ہو۔اس خیال سے جماعتی نظام میں اطفال کی عمر سات سال کے بعد مقرر کی گئی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے اس عمر کی یہ اہمیت تو بہر حال ملتی تھی کہ اس کے بعد تربیت رسمی طور پر بھی با قاعدہ شروع کر دی جائے۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے ارشادات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تربیت کا دور پہلے بھی جاری تھا۔سات سال سے کم عمر کے بچہ کے بارہ میں بعض استثناء اس کے کچھ اور پہلو بھی ہیں پھر اس دور کے بعد کچھ اور پہلو بھی سامنے آتے ہیں پس اس نقطۂ نگاہ سے جب ہم اس مسئلہ پر مزید غور کرتے ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے بعض اور ارشادات نظر آتے ہیں جن کا اس مضمون سے تعلق ہے مثلاً یہ بات کہ بچے کی خیار کی عمر کیا ہے؟ یہ ایک ایسی بحث ہے جو فقہاء کے درمیان چل رہی ہے مثلاً یہاں بیوی کی علیحدگی کی صورت میں اگر بچے سے یہ پوچھنا ہو کہ تم نے ماں کے پاس رہنا ہے یا باپ کے پاس جانا ہے تو وہ کون سی عمر ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے۔بہت سے فقہاء