مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 286 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 286

286 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ان سے وہ پوری طرح واقف اور آشنا ہو اور اسے تجربہ بھی ہو۔محض دیکھنے سے بات حاصل نہیں ہوتی۔مجھے یاد ہے وقف جدید میں ہم ظہر کی نمازیں وہیں پڑھا کرتے تھے کیونکہ کام کے وقت دوسری جگہ جانا مشکل ہوتا ہے۔نزدیک ترین جو ( بیت الذکر ) تھی۔اس سے زیادہ نمازی وہاں ہو جاتے تھے۔چنانچہ با قاعدہ نماز ظہر کے لئے وہیں ایک کمرہ میں ( بیت الذکر ) بنائی ہوئی تھی۔سپاہی پیدا کرنے کی بجائے لیڈر پیدا کریں ایک دفعہ وہاں ایک اچھے خاصے مخلص دوست جو خدام الاحمدیہ کے کاموں بڑے پیش پیش اور ان کاموں کے واقف کار تھے تشریف لائے تو میں نے ان کو کہا کہ آج آپ نماز پڑھائیں۔ظہر کی نماز تھی۔انہوں نے کہا مجھے نماز پڑھانی نہیں آتی۔اگر وہ ویسے کہہ دیتے کہ میں جھجکتا ہوں تو اور بات تھی۔میں نے کہا کہ نماز پڑھائی نہیں آتی کیا مطلب ! آپ کو بلکہ ہر احمدی کونماز پڑھانی آنی چاہیے۔اس کا کیا مطلب ہے کہ نماز پڑھانی نہیں آتی۔انہوں نے کہا جی دیکھی ہوئی ہے لیکن کبھی پڑھائی نہیں۔میں نے کہا پھر پڑھانے میں کیا حرج ہے۔اگر آپ کو پڑھانی نہیں آتی تو آپ نے بار ہا ساری عمر دوسروں کو نماز پڑھاتے دیکھا تو ہوا ہے۔آج آپ آگے جا کر نماز پڑھائیں۔چنانچہ ان کے نماز پڑھانے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ غلطی کی تھی ان کی پہلے کچھ تربیت ہونی ضروری تھی۔کیونکہ وہ شائد میرے کہنے کی وجہ سے کچھ نروس یعنی گھبراہٹ کا شکار ہو گئے یا پہلی دفعہ نماز پڑھانے کے نتیجہ میں ایسا ہوا کہ اللہ اکبر کی جگہ سمع اللہ لمن حمدہ اور سمع اللہ کی بجائے اللہ اکبر سجدے میں جاتے وقت ربنا لک الحمد کہ رہے ہیں ایسی اکھڑی ہوئی نماز تھی کہ پچھلے نمازیوں کے لئے ہنسی برداشت کرنی مشکل تھی بڑی مشکل سے نماز کا وہ وقت گزرا۔اس وقت خاص طور پر مجھے خیال آیا کہ ہم ایک بات سے غافل ہو گئے ہیں ( دین حق ) ہم سے تقاضے کرتا ہے سید پیدا کرنے کا سردار پیدا کرنے کا، امام پیدا کرنے کا اور ہم مقتدی پیدا کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنی ذمہ داریاں ادا کر دیں۔یہ تو ایک ایسا عظیم الشان راز ہے قوموں کی ترقی کا، جس کو مسلمانوں نے بھلا دیا لیکن بعض غیر قوموں کے غیر معمولی لیڈروں نے اختیار کیا اور اس سے بڑا فائدہ اٹھایا لیکن انہوں نے ی ظلم کیا کہ اس سے منفی رنگ میں فائدہ اٹھایا یعنی فائدہ تو اٹھایا لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے بعد اسے دنیا کی ہلاکت کے لئے استعمال کیا۔بایں ہمہ بنیادی طور پر راز یہی تھا کہ نئی نسلوں کو لیڈر اور سردار بنایا جائے۔جب جنگ عظیم اوّل ہوئی تو عالمی طاقتوں نے یہ غور کیا کہ جرمنی کے متعلق ایسی کارروائیاں کرنی چاہئیں کہ وہ پھر کبھی