مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 283 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 283

283 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم باتیں بتلائی جاتی تھیں ہم سے تو کچھ اور توقعات رکھی جاتی ہیں اور وہاں کچھ اور باتیں ہورہی ہیں۔بہر حال بڑی تفصیل سے ان کو رفتہ رفتہ سمجھانے کی کوشش کی اور پھر وہ سمجھ گئے بڑے ذہین آدمی تھے۔ان کو میں نے آخر پر یہ بتایا کہ ان نوجوانوں کی غلطی کردار کی غلطی ہے لیکن آپ کی غلطی اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔آپ نے خدا کو پاکستان کا خدا سمجھ لیا ہے اور جرمن کا ( دین حق ) نہیں سمجھا۔آپ کو تو ہم نے خدا سے روشناس کرایا ہے۔جو کل عالم اور کل کائنات کا خدا ہے۔آپ کو تو ہم نے ( دین حق ) سے روشناس کروایا ہے جو سارے عالم کا دین ہے۔اس لئے جب آپ نے حاصل کر لیا تو اس کے بعد اپنی تربیت کے لئے کسی دوسرے کے محتاج کیوں ہیں۔کیا اس کے پھر جانے سے آپ پھر جائیں گے؟ اگر غیر، خدا کو چھوڑتا ہے تو کیا آپ بھی اس خدا سے دامن تو ڈلیں گے؟ یہ رجحان سب سے زیادہ خطر ناک ہے۔آپ اس کی بجائے ایک اور ردعمل دکھا سکتے تھے۔آپ ان خطوط پر بھی سوچ سکتے تھے کہ ان لوگوں نے بڑی مالی اور جانی قربانیاں کیں اور بڑی لمبی جدوجہد کی اور بڑی سخت مشکلات میں اپنے ایمان کی حفاظت کرتے رہے اور ہم تک پیغام پہنچایا۔اس عرصہ میں ان میں سے کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے کچھ بیمار ہوئے اور کچھ خود ان مقاصد سے دور جاپڑے، ہم اور طرح تو ان کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتے کیوں نہ ان کی تربیت کر کے احسان کا بدلہ دیں، کیوں نہ ان کو بتلائیں کہ جو دین تم نے ہم کو پہنچایا تھا ہم نے اس کو بہت حسین پایا ہے ہم نے اس پر عمل کر کے دیکھا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا نور ہے نور اٹھو دیکھو سنایا ہم نے تم یہی اعلان کر سکتے تھے کہ ہم نے تو اسے اچھا پایا ہے اس نے تو ہماری زندگیوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں۔ہمارے کردار بدل کر رکھ دیئے ہیں، ہمیں گندگیوں سے نجات بخشی ہے اور روحانی تسکین عطا کی ہے، تم اپنی جانوں پر کیا ظلم کر رہے ہو کہ ہمیں بچا کر خود ہلاکت میں مبتلا ہورہے ہو۔میں نے انہیں سمجھایا کہ اگر تمہاری طرف سے یہ آواز ان پاکستانی نوجوانوں کے کانوں میں پڑے تو وہ بہت زیادہ مؤثر ہوگی اور وہ بہت زیادہ ان کو شرمندہ کرنے والی اور ان کی غیرت کو چر کہ لگانے والے ہوگی اور واقعہ تم ایک احسان کا بدلہ اتارنے والے ہو گے۔اگر تمہاری سوچیں ان رستوں پر چلتی رہی جن رستوں پر چل رہیں ہیں تو خود بھی نقصان اٹھاؤ گے اور ان کو بھی نقصان میں ڈال دو گے۔یہ وہ طریق ہے جس میں دونوں طرف کی تربیت کی ضرورت ہے۔