مشعل راہ جلد سوم — Page 266
266 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم دیر کے بعد آپ کو یہ احساس ہوگا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو جو نعمت دی تھی وہ اکثر آپ نے دنیا کی پیروی میں ضائع کر دی اور کچھ بھی ایسی کمائی یہاں نہیں کر سکے جو اُخروی زندگی میں خدا کے حضور پیش کر سکیں نو جوانی کی عمر جہاں غیر ذمہ داری کی عمر ہے وہاں اصلاح کے لحاظ سے بھی جوانی کی عمر میں صلاحیت موجود ہے کہ جلد اصلاح پذیر ہو جاتی ہے۔دنیا میں بھٹکنے کے امکانات بھی زیادہ احتمالات بھی زیادہ ہوتے ہیں اور جوانی کی عمر میں تو بہ کرنے کی طاقت بھی زیادہ نصیب ہوتی ہے اور جلدی اپنے رستے کو بدلنے کی صلاحیت بھی زیادہ موجود ہوتی ہے۔جس طرح چھوٹی عمر کے پودے ہیں ان کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ آپ ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لگا دیں تب بھی وہ بچ جائیں گے لیکن بڑی عمر کے پودوں کو آپ ایک جگہ سے اکھیڑ کر دوسری جگہ لگائیں گے تو وہ نہیں بچ سکتے چند دن کی فرضی رونق ان کی باقی رہے گی جو پچھلی کمائی کے نتیجہ میں ہے لیکن تازہ پانی سے وہ فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، تازہ خوراک سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، کچھ دنوں بعد مرجھا جاتے ہیں۔تو آپ نوجوان نسل سے تعلق رکھتے ہیں اگر پہلی زندگی میں آپ نے کچھ اور قسم کے مقصود بنائے ہوئے تھے ، کچھ اور طرح کی باتوں کی پیروی کی تھی تو ابھی آپ میں صلاحیت موجود ہے کہ اپنی زندگی کے نقشے کو بدل ڈالیں۔خدا تعالیٰ کے حضور سنجیدگی سے اپنے آپ کو پیش کریں اور خدا تعالیٰ کی فوج کے صف اول کے مجاہد بنے کا ارادہ کریں یہ ہر گز مشکل نہیں۔میں اس کے متعلق مزید کچھ تھوڑی سی روشنی ڈالتا ہوں۔امر واقعہ یہ ہے کہ جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے اور یہ جائزہ میرا صرف خطوں کے ذریعہ اطلاعات پر مبنی نہیں بلکہ جماعتی رپورٹوں پر بھی مینی ہے جس کا میں جائزہ لیتا رہتا ہوں بہت ہی تھوڑی تعداد ہے ابھی احمدی نوجوانوں کی جو دعوت الی اللہ کے کام میں سنجیدگی کے ساتھ ملوث ہو چکے ہیں جن کی زندگی کا مقصد اوّل دعوت الی اللہ بن چکا ہے۔ایسے خدام جرمنی میں معدودے چند ہیں جو کوشش کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو توفیق بخشے کہ صحیح معنوں میں وہ اس کوشش میں کامیاب ہوں لیکن باقی جتنے ہیں وہ ان چند لوگوں کی نیک کمائی کی کھٹی کھاتے ہیں۔جرمنی کا نام اگر ( دعوت الی اللہ ) میں روشن ہے تو وہ سب کی وجہ سے نہیں صرف چند آدمیوں کی وجہ سے ہے۔اگر آپ سارے فی الحقیقت سنجیدگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے عہد کر کے داعی الی اللہ بننے کی کوشش کریں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگلے سال اٹھارہ سو کی بجائے چھتیں سوخدام یہاں بیٹھے ہونے چاہئیں جن میں سے مزید اٹھارہ سو مقامی ملکی ہونے چاہئیں ہرگز مشکل نہیں ہے جو لوگ سنجیدگی سے