مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 262 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 262

مشعل راه جلد سوم 262 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی عشق پہلے معشوق کے دل میں پیدا ہوا کرتا ہے۔اگر شمع روشن نہ ہو تو پروانہ نہیں جلا کرتا اس لئے آپ کو انکی محبت میں پہلے خود مفتوح ہونا پڑے گا ان سے ایسا عشق اور پیار کا معاملہ کرنا پڑیگا کہ بالآخر انکے لئے چارہ نہ رہے آپ پر عاشق ہوئے بغیر یہ ہے دینی اور روحانی فتح کا منظر جو ہمیں قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے اور جو ہمیں احادیث نبویہ سے اور سنت حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوتا ہے آپ فرماتے ہیں کہ میری اور تمہاری مثال تو ایسے ہے جیسے تم دیوانہ وار ایک آگ کے گڑھے کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہو اور میں تمہارے عشق اور تمہاری محبت میں والہانہ تمہیں بچانے کے لئے تمہارے پیچھے دوڑتا ہوں۔کبھی کمر پر ہاتھ ڈالتا ہوں کبھی کندھے سے پکڑتا ہوں اور میری کوشش زیادہ سے زیادہ یہی ہے کہ کسی طرح میں تمہیں ہلاکت سے بچاؤں۔پس حقیقت میں جب ہم فتح کی باتیں کرتے ہیں تو ہر گز دنیاوی اصطلاح کی فتح نہیں۔نہ ہمارا وہ مقصود ہے نہ ہمیں اس سے کوئی دلچسپی ہے فتح سے مراد وہ روحانی فتح ہے جس کے نتیجہ میں جن پر ہم فتحیاب ہوتے ہیں وہ نجات پا جاتے ہیں جن پر ہم غالب آتے ہیں۔ان کی محبت میں مغلوب ہو کر غالب آتے ہیں اس کے بغیر غالب نہیں آتے پس اس پہلو سے ( دین حق ) کا یہ جہاد ایک انتہائی عظیم الشان انسانی جہاد ہے اور انسانیت کی سطح کا بلند ترین جہاد ہے۔اٹھارہ سو کے لگ بھگ خدام یہاں موجود ہیں جن میں سے غالباً دوسو کے قریب یا ایک سو پچھتر کے قریب باہر کے ملکوں کے ہونگے اور باقی سب جرمنی کے ہیں حالانکہ جرمنی کے سب خدام یہاں حاضر نہیں ہو سکے۔یہاں احمدیت کی ترقی کے امکانات نمایاں ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے جرمنی میں مجلس خدام الاحمدیہ کی تعداد دو ہزار سے یقیناً زائد ہو چکی ہے اور دو ہزار کی تعداد تو ایک بہت عظیم الشان تعداد ہے جو خالصہ جوانوں پر مبنی ہے دنیا کے کسی ملک میں بوڑھوں اور جوانوں کی وہ نسبت نہیں جو جرمنی میں ہے۔یہاں نو جوانوں کی تعداد خاندانوں کی نسبت کے لحاظ سے غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔اس لئے دو طرح سے یہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ( دین حق ) اور احمدیت کی ترقی کے نمایاں امکانات ہیں۔اول نو جوان میں ہمت ہوتی ہے کام کی اور خدمت کا جذ بہ بھی ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو مٹا دینے کی طاقت بھی پاتا ہے جب کہ بوڑھوں میں خواہ اخلاص کا معیار بلند بھی ہو تو وہ اس طرح انجام سے بے خبر ہو کر بے پرواہ ہو کر اپنی ذات کو کسی اعلیٰ مقصد کی خاطر