مشعل راہ جلد سوم — Page 222
مشعل راه جلد سوم 222 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی حقائق کی دنیا میں رہنا سیکھیں دوسری بات میں یہ کہوں گا کہ اس وقت قرآن کریم کی تلاوت کے لئے جن آیات کا انتخاب کیا گیا ہے اس سے میرا ماتھا ٹھنکا تھا کہ کچھ اس قسم کی باتیں سپاسنامہ میں کریں گے چنانچہ سپاسنامہ کے بارہ میں میرا رد عمل اسی وجہ سے تھا۔میں نے آپ کو بار ہا سمجھایا ہے۔میرا فرض ہے میں آپ کو سمجھاؤں، آپ کے جذبات محبت کی قدر بھی کروں لیکن آپ کو حقائق کی دنیا میں رکھوں اور آپ کے دائرہ کار سے آپ کو باہر قدم نہ رکھنے دوں۔قرآن کریم کی اس طرح کی تفسیر کر دینا کہ گویا ایک خلیفہ وقت نے پچھلے سال مغرب کا سفر کیا اور پھر اب مشرق کا سفر کیا تو گویا وہ ذوالقرنین بن گیا۔صحیح نہیں ہے۔یہ تو انسان کے بس کی باتیں نہیں ہیں نہ آپ کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔تفسیر قرآن اگر کرنی ہے تو اس نے کرنی ہے جس کو اللہ تعالی توفیق عطا فرمائے گا۔جس کو اس منصب پر مقرر کیا ہے اس کی جب راہنمائی فرمائے گا تو وہ تفسیر کرے گا لیکن ان باتوں میں اتنی جلدی فیصلے کر لینا اور ان کو قومی فیصلے بنالینا اور ان کو نعروں میں اتار لینا اور سپاسناموں میں پیش کرنا، یہ چیز مجھے پسند نہیں ہے اور اس لئے پسند نہیں ہے کہ یہ غلط طریق ہے۔مجھے اس میں خطرات نظر آرہے ہیں۔اگر اس رجحان کو بند نہ کیا جائے تو اس طرح قوم آہستہ آہستہ بگڑنے لگ جاتی ہے۔پس اس کا ایک فائدہ تو ہو گیا کہ جو غلطی مجھے نظر آرہی تھی وہ کھل کر سامنے آگئی۔پہلے اشاروں اشاروں میں باتیں ہورہی تھیں اور میں انتظار میں تھا کہ کہیں کھل کر باتیں ہوں تو میں پکڑوں۔ذوالقرنین کے متعلق قرآن کریم میں جو مضمون بیان ہوا ہے ایک بہت وسیع مضمون ہے اس کو ایک چھوٹے سے دائرہ میں محدود کر کے بچگانہ ترجمہ کرنا صحیح نہیں ہے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم دور سے تعلق رکھنے والا مضمون ہے جو کئی ٹکڑوں میں پھیلا ہوا ہے۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے اور بجز کے ساتھ اس سے مانگا جائے کہ خدا موجودہ خلافت کے دور میں بھی اس کی بعض خوشکن صورتیں ظاہر فرما دے اور ہمیں اس کے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ تو بڑی نیک خواہش ہے اس کے لئے دعا کرنی چاہیے نہ کہ نعرہ بازی کرنی چاہیے۔پیشگوئی کا ایک پہلو اور فتنہ دجالیت کا قلع قمع حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ اس مضمون کی تفصیل میں جائیں تو پتہ لگتا ہے کہ مغرب میں جانے اور مشرق