مشعل راہ جلد سوم — Page 220
مشعل راه جلد سوم 220 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی کوئی غلط بات ہوئی تو میں کہدوں گا کہ یہ غلط ہے۔“ اس پر ناز صاحب نے سپاسنامہ پیش کیا۔اور پھر تشہد تعوذ اور تسمیہ کے بعد حضور نے فرمایا :- میں مجلس خدام الاحمدیہ کے تمام اراکین کا مجلس عاملہ کا بھی اور مجالس عامہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس دعوت پر مجھے مدعو کیا اور اپنے اس خطاب میں جو ا بھی استقبالیہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے اس میں جملہ خدام کی قربانی کے جذبات کو نہایت عمدہ لفظوں میں پیش کیا گیا ہے۔نظریات کو واقعات کے ساتھ ہم آہنگ کرناضروری ہے یہ درست ہے کہ ہر احمدی کا دل اللہ تعالیٰ کی راہ میں فدا ہونا چاہیے اور یقیناً اس کے دل کے جذبات وہی ہوں گے جو پیش کئے گئے ہیں۔یہ کہ جان۔مال۔عزت آبر و غرضیکہ زندگی کا ذرہ ذرہ خدا کے دین پر نچھاور کرنے کے لئے تیار رہیں گے۔لیکن اگر آپ واقعاتی لحاظ سے حالات پر نظر ڈال کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ابھی ہمارے اندر بہت کمزوریاں پائی جاتی ہیں نظریاتی قربانیوں کا معیار اونچا ہے اور عملی قربانیوں کا معیار نیچا ہے اور ان کے درمیان پلیٹ فارمز کا فرق ہے۔ایک اور پلیٹ فارم پر واقع ہے اور دوسری اور پلیٹ فارم پر واقع ہے۔تاہم یہ مراد نہیں ہے کہ نعوذ باللہ سب کا یہ حال ہے۔سب ایسے نہیں لیکن ایسے واقعات کثرت سے نظر آتے ہیں کہ جب ادنی ادنی ابتلاء آئیں تو لوگ گھبرا جاتے ہیں۔چھوٹی قربانی کرنی پڑے تو بعض پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔قائد خدام الاحمدیہ بلانے کے لئے جاتا ہے تو اندر سے پیغام آجاتا ہے کہ ابا جان گھر پر نہیں ہیں۔قائد مجلس کسی اجلاس کے لئے ان کو روکتا ہے تو کہتے ہیں ہمیں جلدی ہے ہم نے جانا ہے۔ان کا نفس کئی بہانے بناتا ہے۔ان واقعات کو دیکھ کر محض لفظوں پر دل کس طرح تسلی پاسکتا ہے اس لئے میں آپ کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جذبات کے لحاظ سے یہ درست ہے کہ ہمیں تیار ہونا چاہیے لیکن نظریات کو جب تک واقعات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کریں گے۔جب تک جذبات کو واقعیت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک ہم بڑے انقلاب کے خواب نہیں دیکھ سکتے۔دیکھ سکتے ہیں لیکن ان کی کوئی تعبیر نہیں ہوگی کیونکہ یہ بھی خواہیں ہیں اور وہ بھی خوا میں ہیں ان سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔اس لئے میں آپ کو